المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
60. شأن نزول آية ( ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون ) الآية
آیت“اور اس میں سے خراب چیز خرچ کرنے کا قصد نہ کرو”کے نازل ہونے کا سبب
حدیث نمبر: 3165
أخبرني أبو بكر الشافعي، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا أبو حُذَيفة، حدثنا سفيان، عن جعفر بن إياس، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: كانوا يكرهون أن يَرضَخُوا لأنسِبائِهم (1) وهم مشركون، فنزلت: ﴿لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ﴾ حتى بلغ ﴿وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ﴾ [البقرة: 272] ، قال: فرُخِّصَ لهم (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3128 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3128 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: لوگ حالت شرک میں اپنے نسب کی ہتک گوارا نہیں کرتے تھے تو یہ آیت نازل ہوئی: لَیْسَ عَلَیْکَ ھُدٰھُمْ وَٰلکِنَّ اللّٰہَ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ (البقرۃ: 272) ” انہیں راہ دینا تمہارے ذمہ لازم نہیں، ہاں اللہ راہ دیتا ہے جسے چاہتا ہے “۔ حتیٰ کہ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ (البقرۃ: 272) ” اور نقصان نہ دیے جاؤ گے “۔ تک پہنچے۔ آپ فرماتے ہیں: پھر ان کو رخصت دے دی گئی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3165]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3165 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ع) و (ب): لأنسابهم، وهو خطأ. والأنسباء: الأقرباء، جمع نَسِيب.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ع) اور (ب) میں (لأنسابهم) ہے، اور یہ غلط ہے۔ "الأنسباء": اقرباء (رشتے دار)، یہ نسیب کی جمع ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أبي حذيفة -وهو موسى بن مسعود النهدي- وقد توبع. سفيان: هو الثوري.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ سند ابو حذیفہ (موسیٰ بن مسعود النہدی) کی وجہ سے ’حسن‘ ہے، اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سفیان سے مراد ’ثوری‘ ہیں۔
وأخرجه النسائي (10986) من طريق محمد بن يوسف الفريابي، عن سفيان الثوري، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی نے (10986) میں محمد بن یوسف الفریابی کے طریق سے، انہوں نے سفیان ثوری سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وسيأتي برقم (7451) من طريق أبي أحمد الزبيري عن سفيان.
🧾 تفصیلِ روایت: اور یہ آگے نمبر (7451) پر ابو احمد الزبیری عن سفیان کے طریق سے آئے گا۔
والرَّضْخ: العطيّة القليلة.
📝 نوٹ / توضیح: "الرَّضْخ": تھوڑا عطیہ (معمولی حصہ)۔