🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
61. مذمة المخابرة وجواز السلف
مخابرہ کی مذمت اور قرض دینے کے جواز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3171
حدثنا أبو النَّضْر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا معاذ بن نَجْدة القرشي، حدثنا خلَّاد بن يحيى، حدثنا أبو عَقِيل، عن يحيى بن أبي كثير، أنس قال: لما نَزَلَت هذه الآيةُ على النبي ﷺ ﴿آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ﴾ [البقرة:285] ، قال النبي ﷺ:"وحُقَّ له أن يُؤْمِنَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [3 - ومن سورة آل عمران]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3134 - منقطع
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: ٰامَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہٖ (البقرۃ: 285) رسول ایمان لایا اس پر جو اس کے رب کے پاس سے اس پر اُترا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور ان کا ایمان لانے کا زیادہ حق ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3171]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3171 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف لضعف أبي عقيل -وهو يحيى بن المتوكل- ثم إنه منقطع، يحيى بن أبي كثير رأى أنسًا إلّا أنه لم يسمع منه، وبالانقطاع أعلَّه الذهبي في "تلخيصه".
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ابو عقیل (یحییٰ بن المتوکل) کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے؛ 🔍 فنی نکتہ / علّت: پھر یہ منقطع بھی ہے، کیونکہ یحییٰ بن ابی کثیر نے انس رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے مگر ان سے سنا نہیں ہے، اور ذہبی نے اپنی "تلخیص" میں اسے انقطاع کی وجہ سے معلول قرار دیا ہے۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (2187) عن أبي عبد الله الحاكم بهذا الإسناد. ويشهد له ما رواه الطبري في "تفسيره" 3/ 151 بإسناد جيد عن قتادة قال: ذُكر لنا أنَّ نبي الله ﷺ لما نزلت هذه الآية قال: "ويحقُّ له أن يؤمن"، وهو مرسل.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "شعب الإيمان" (2187) میں ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ 🧩 متابعات و شواہد: اور اس کی تائید (بطور شاہد) وہ روایت کرتی ہے جسے طبری نے اپنی "تفسیر" 3/ 151 میں جید سند کے ساتھ قتادہ سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا: ہمیں ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے جب یہ آیت نازل ہوئی تو فرمایا: "اور اس کے لیے یہی سزاوار ہے کہ وہ ایمان لائے"؛ ⚖️ درجۂ حدیث: اور یہ مرسل ہے۔