🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
61. مذمة المخابرة وجواز السلف
مخابرہ کی مذمت اور قرض دینے کے جواز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3170
حدثنا أحمد بن كامل القاضي ببغداد، حدثنا عبد الله بن رَوْح المدائني، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا سفيان بن حسين، عن الزُّهْري، عن سالم: أنَّ أباه قرأَ ﴿وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ﴾، فَدَمَعَت عيناه، فبَلَغَ صنيعُه ابنَ عبَّاس فقال: يرحمُ الله أبا عبد الرحمن، لقد صَنَعَ [كما صَنَعَ] أصحاب رسول الله ﷺ حين نزلت فنَسَختها الآيةُ التي بعدها ﴿لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ﴾ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3133 - صحيح
سیدنا سالم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: ان کے والد نے یہ آیت پڑھی: اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْ اَنْفُسِکُمْ اَوْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُ (البقرہ: 284) اگر تم ظاہر کرو جو کچھ تمہارے جی میں ہے یا چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا تو جسے چاہے گا بخش دے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا۔ (یہ آیت پڑھتے ہوئے) آپ آبدیدہ ہو گئے، ان کی اس کربناک کیفیت کی اطلاع سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن پر رحم فرمائے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تھی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بھی یہی حالت ہوئی تو اس کے بعد والی آیت نے اس کو منسوخ کر دیا (وہ آیت یہ ہے) لَھَا مَا کَسَبَتْ وَ عَلَیْھَا مَا اکْتَسَبَتْ (البقرہ: 286) اس کا فائدہ ہے جو اچھا کمایا اور اس کا نقصان ہے جو برائی کمائی ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3170]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3170 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، سفيان بن حسين في روايته عن الزهري مقال، لكن روي نحو حديث هذا من غير هذا الوجه كما سيأتي، فصحَّ حديثه، وصحَّح هذا الإسناد البوصيري في "إتحاف الخيرة" (5642)، وصحَّحه أيضًا ابن كثير في "تفسيره". سالم: هو ابن عبد الله بن عمر، وكنية ابن عمر هي أبو عبد الرحمن.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے؛ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سفیان بن حسین کی زہری سے روایت میں کچھ کلام (مقال) ہے، لیکن اس حدیث کی مثل اس وجہ (طریق) کے علاوہ سے بھی مروی ہے جیسا کہ آگے آئے گا، پس ان کی حدیث صحیح ہو گئی۔ اور اس سند کو بوصیری نے "إتحاف الخيرة" (5642) میں اور ابن کثیر نے اپنی "تفسیر" میں صحیح قرار دیا ہے۔ سالم سے مراد ’ابن عبداللہ بن عمر‘ ہیں، اور ابن عمر کی کنیت ’ابو عبدالرحمن‘ ہے۔
وأخرجه أحمد بن منيع في "مسنده" كما في "إتحاف الخيرة" (5642)، وابن أبي شيبة 14/ 7، والطبري في "تفسيره" 3/ 145، والمحاملي في "أماليه -رواية ابن مهدي الفارسي" (374)، والنحاس في "الناسخ والمنسوخ" ص 275 - 276، وابن الجوزي في "نواسخ القرآن" 2/ 312 من طريق يزيد بن هارون، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد بن منیع نے اپنی "مسند" میں (جیسا کہ "إتحاف الخيرة" 5642 میں ہے)، ابن ابی شیبہ نے 14/ 7 میں، طبری نے اپنی "تفسیر" 3/ 145 میں، محاملی نے "أماليه" (روایت ابن مہدی الفاسی 374) میں، نحاس نے "الناسخ والمنسوخ" ص 275 - 276 میں، اور ابن الجوزی نے "نواسخ القرآن" 2/ 312 میں یزید بن ہارون کے طریق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه أبو عبيد في "الناسخ والمنسوخ" (507) عن عباد بن العوام، عن سفيان بن حسين، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو عبید نے "الناسخ والمنسوخ" (507) میں عباد بن العوام سے، انہوں نے سفیان بن حسین سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وهو بنحوه عند أحمد 5 / (3070) من طريق حميد الأعرج، عن مجاهد، عن ابن عبَّاس. وإسناده صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اور اس کی مثل احمد کے ہاں 5/ (3070) میں حمید الاعرج کے طریق سے، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے ابن عباس سے مروی ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اور اس کی سند صحیح ہے۔