🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

61. مَذَمَّةُ الْمُخَابَرَةِ وَجَوَازُ السَّلَفِ
مخابرہ کی مذمت اور قرض دینے کے جواز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3166
..... [عبد الله بن رجاء المكي، عن عبد الله بن عثمان] (3) بن خُثَيم، عن أبي الزُّبير، عن جابر قال: لما نَزَلَت ﴿الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ﴾ [البقرة: 275] قال رسول الله ﷺ:"مَن لم يَذَرِ المُخابَرَةَ، فليُؤذَنْ بحرب من الله ورسوله" (4) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3129 - على شرط مسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: لَمَّا نَزَلَتْ: اَلَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ الرِّبا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا کَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ (البقرۃ: 275) وہ جو سود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط بنا دیا ہو ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مخابرہ نہیں چھوڑتا وہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کا اعلان کر دے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3166]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3167
أخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا أبو مسلم، حدثنا إبراهيم بن بشَّار، حدثنا سفيان، عن أيوب، عن قَتَادة، عن أبي حسَّان قال: قال ابن عبَّاس: أشهَدُ أَنَّ السَّلَفَ المضمونَ إلى أجل مُسمًّى قد أحلَّه الله في الكتاب وأَذِنَ فيه، قال الله ﷿: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَاكْتُبُوهُ﴾ الآية [البقرة: 282] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک معین مدت تک کے لیے ذمہ داری کے ساتھ سودا کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جائز قرار دیا ہے اور اس کی اجازت دی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْآ اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی فَاکْتُبُوْہُ (البقرۃ: 282) اے ایمان والو! جب تم کسی مقررہ مدت تک کسی دین کا لین دین کرو تو اسے لکھ لو ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3167]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3168
أخبرني محمد بن علي الصَّنعاني بمكة، حدثنا علي بن المبارك الصَّنعاني، حدثنا زيد بن المبارَك الصنعاني، حدثنا محمد بن ثَوْر، عن ابن جُرَيج، عن عبد الله ابن أبي مُلَيكة قال: أرسلتُ إلى ابن عبَّاس أسألُه عن شهادة الصِّبيان، فقال: قال الله ﷿: ﴿مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ﴾ [البقرة: 282] وليسوا ممّن نَرضَى، قال: فأرسلتُ إلى ابن الزُّبير أسألُه، فقال: بالحَرِيِّ إن سُئِلوا أن يَصدُقوا، قال: فما رأيتُ القضاءَ إلَّا على ما قال ابنُ الزُّبير (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3131 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف ایک آدمی کو بھیجا تاکہ وہ ان سے بچوں کی گواہی کے متعلق شرعی فیصلہ معلوم کر کے آئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواباً کہا: اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّھَدَآء (البقرۃ: 282) ایسے گواہ جن کو پسند کرو ۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے یہی مسئلہ معلوم کرنے کے لیے سیدنا عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، انہوں نے فرمایا: اگر ان سے کچھ پوچھا جائے تو ان کا تصدیق کر دینا بہتر ہے۔ پھر میں نے سیدنا ابن الزبیر رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق ہی فیصلہ دیکھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3168]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3169
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا وَكيع، حدثنا سفيان، عن آدم بن سليمان قال: سمعت سعيد بن جُبير يحدِّث عن ابن عبَّاس قال: لما نَزَلَت هذه الآية: ﴿وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ﴾ [البقرة: 284] فلما نزلت شَقَّ ذلك عليهم ما لم يَشُقَّ عليهم شيءٌ مثلُ ذلك، فقال لهم رسول الله ﷺ:"قولوا: سَمِعْنا وأَطَعْنا" فألقى الله الإيمانَ في قلوبهم فقالوا: سَمِعْنا وأَطَعْنا، فأنزل الله ﷿: ﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ﴾ إلى قوله: ﴿أَوْ أَخْطَأْنَا﴾ [البقرة: 286] قال:"قد فعلتُ"؛ إلى آخر البقرة (2)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3132 - صحيح
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْ اَنْفُسِکُمْ اَوْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ (البقرہ: 284) اگر تم ظاہر کرو جو کچھ تمہارے جی میں ہے یا چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا ۔ تو یہ حکم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر اس قدر گراں گزرا کہ اس سے پہلے کبھی کوئی حکم اتنا گراں نہیں گزرا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم کہو سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایمان ڈال دیا۔ انہوں نے کہا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: (لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا لَھَا مَا کَسَبَتْ وَ عَلَیْھَا مَا اکْتَسَبَتْ) (البقرہ: 286) اللہ کسی پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر اس کا فائدہ ہے جو اچھا کمایا اور اس کا نقصان ہے جو برائی کمائی ۔ اَوْ اَخلطَاْنَا تک۔ پھر آپ نے فرمایا: بے شک ایسا ہو چکا۔ سورۂ بقرہ کے آخر تک۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3169]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3170
حدثنا أحمد بن كامل القاضي ببغداد، حدثنا عبد الله بن رَوْح المدائني، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا سفيان بن حسين، عن الزُّهْري، عن سالم: أنَّ أباه قرأَ ﴿وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ﴾، فَدَمَعَت عيناه، فبَلَغَ صنيعُه ابنَ عبَّاس فقال: يرحمُ الله أبا عبد الرحمن، لقد صَنَعَ [كما صَنَعَ] أصحاب رسول الله ﷺ حين نزلت فنَسَختها الآيةُ التي بعدها ﴿لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ﴾ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3133 - صحيح
سیدنا سالم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: ان کے والد نے یہ آیت پڑھی: اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْ اَنْفُسِکُمْ اَوْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُ (البقرہ: 284) اگر تم ظاہر کرو جو کچھ تمہارے جی میں ہے یا چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا تو جسے چاہے گا بخش دے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا۔ (یہ آیت پڑھتے ہوئے) آپ آبدیدہ ہو گئے، ان کی اس کربناک کیفیت کی اطلاع سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن پر رحم فرمائے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تھی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بھی یہی حالت ہوئی تو اس کے بعد والی آیت نے اس کو منسوخ کر دیا (وہ آیت یہ ہے) لَھَا مَا کَسَبَتْ وَ عَلَیْھَا مَا اکْتَسَبَتْ (البقرہ: 286) اس کا فائدہ ہے جو اچھا کمایا اور اس کا نقصان ہے جو برائی کمائی ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3170]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3171
حدثنا أبو النَّضْر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا معاذ بن نَجْدة القرشي، حدثنا خلَّاد بن يحيى، حدثنا أبو عَقِيل، عن يحيى بن أبي كثير، أنس قال: لما نَزَلَت هذه الآيةُ على النبي ﷺ ﴿آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ﴾ [البقرة:285] ، قال النبي ﷺ:"وحُقَّ له أن يُؤْمِنَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [3 - ومن سورة آل عمران]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3134 - منقطع
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: ٰامَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہٖ (البقرۃ: 285) رسول ایمان لایا اس پر جو اس کے رب کے پاس سے اس پر اُترا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور ان کا ایمان لانے کا زیادہ حق ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3171]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں