🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
62. تفسير سورة آل عمران
سورۂ آلِ عمران کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3173
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا أبو عُبيد، حدثنا حَجَّاج، عن هارون بن موسى، حدثني محمد بن عمرو بن علقمة، عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب، عن أبيه، عن عمر بن الخطَّاب: أنه صَلَّى بهم فقرأَ ﴿الم (1) اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ [آل عمران: 1 - 2] (2) . قال أبو عبيد: أما القرَّاء بعدُ من أهل الحَرمَين مكة والمدينة، وأهل المِصرَين الكوفة والبصرة، وأهل الشام ومصر وغيرهم من القرَّاء فقرؤوها: (القَيُّوم) لا اختلافَ بينهم فيه أعلمُه، وكذلك القراءةُ عندنا، لموافقة الكِتاب ولمَا عليه الأُمة، وإن كان لذَينِكَ الوجهين في العربية مَخرَج.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3136 - صحيح
سیدنا عبدالرحمن بن حاطب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، اس میں آپ نے الٓمّٓ اللّٰہُ لَآ ِٰلہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ (آل عمران: 1-2) الم اللہ ہے جس کے سوا کسی کی پوجا نہیں آپ زندہ اوروں کا قائم رکھنے والا ۔ کی تلاوت کی۔ ٭٭ (یہ حدیث) صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3173]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3173 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) خبر صحيح عن عمر، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو بن علقمة، وقد توبع.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ خبر عمر رضی اللہ عنہ سے صحیح ثابت ہے، اور یہ سند محمد بن عمرو بن علقمہ کی وجہ سے ’حسن‘ ہے، اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔
وهو في "فضائل القرآن" لأبي عبيد القاسم بن سلّام ص 296.
📖 حوالہ / مصدر: یہ ابو عبید القاسم بن سلام کی "فضائل القرآن" ص 296 میں موجود ہے۔
وأخرجه ابن المنذر في "تفسيره" (203) عن علي بن عبد العزيز، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن المنذر نے اپنی "تفسیر" (203) میں علی بن عبدالعزیز سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه سعيد بن منصور في التفسير من "سننه" (486)، وابن أبي داود في "المصاحف" (150 - 153) من طرق عن محمد بن عمرو، به -وقرن به عبدُ الله بن إدريس عند ابن أبي داود (153) محمدَ بن إسحاق. وأخرجه أبو عمر الدوري في "قراءات النبي ﷺ " (27)، والبيهقي في "الشعب" (1951) من طريق ابن إسحاق، عن يحيى بن عبد الرحمن به.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی مثل سعید بن منصور نے اپنی "سنن" کی تفسیر (486) میں، اور ابن ابی داود نے "المصاحف" (150 - 153) میں محمد بن عمرو کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اور عبداللہ بن ادریس نے ابن ابی داود (153) کے ہاں ان کے ساتھ محمد بن اسحاق کو بھی ملایا ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اور اسے ابو عمر الدوری نے "قراءات النبي ﷺ" (27) میں، اور بیہقی نے "الشعب" (1951) میں ابن اسحاق کے طریق سے، انہوں نے یحییٰ بن عبدالرحمن سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وروي نحوه من أوجه أخرى عن عمر بن الخطاب عند ابن أبي داود في "المصاحف". وهي من القراءات الشاذّة.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی مثل دیگر وجوہ (طریقوں) سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ابن ابی داود کی "المصاحف" میں مروی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اور یہ شاذ قراءتوں میں سے ہے۔