🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
62. تفسير سورة آل عمران
سورۂ آلِ عمران کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3174
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا يحيى بن العلاء، عن عمِّه شعيب بن خالد، حدثنا سِماكُ بن حَرْب، وقرأ ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَخْفَى عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ﴾ فقال: حدثني عبد الله بن عَمِيرة، عن العبَّاس بن عبد المطلب قال: كنا جلوسًا مع رسول الله ﷺ بالبَطْحاء، فمرَّت سحابة، فقال رسول الله ﷺ:"أتدرونَ ما هذا؟" فقلنا: الله ورسوله أعلمُ، فقال:"السَّحابُ" فقلنا: السحاب، فقال:"والمُزْنُ" فقلنا: والمُزْن، فقال:"والعَنَانُ" فقلنا: والعَنَان، ثم سَكَتَ، ثم قال:"أتدرونَ كم بين السماءِ والأرض؟" فقلنا: الله ورسوله أعلمُ، قال:"بينهما مَسِيرةُ خمسِ مئة سنة، ومن كلِّ سماءٍ إلى السماء التي تليها مسيرةُ خمسِ مئة، وكِثَفُ كلِّ سماء مسيرةُ خمسِ مئة سنة، وفوقَ السماء السابعة بحرٌ بين أعلاهُ وأسفِله كما بين السماء والأرض، ثم فوقَ ذلك ثمانيةُ أَوْ عالٍ بين رُكَبِهم وأظلافِهم كما بين السماء والأرض، ثم فوقَ ذلك العرشُ بين أسفلِه وأعلاهُ كما بين السماء والأرض، واللهُ تعالى فوقَ ذلك ليس يَخفَى عليه من أعمال بني آدم شيءٌ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في شعبان سنة تسع وتسعين وثلاث مئة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3137 - يحيى واه
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بطحاء (کشادہ نالہ جس میں ریت اور کنکریاں ہوں) میں بیٹھے ہوئے تھے کہ (ہمارے اوپر سے) بادل گزرا، آپ نے فرمایا: تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟ ہم نے عرض کی، اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سحاب ہے۔ ہم نے کہا: سحاب (کیا ہوتا ہے؟) آپ نے فرمایا: مزن ہم نے پوچھا: مزن (کیا ہوتا ہے؟) آپ نے فرمایا: عنان۔ ہم نے کہا: عنان (ہم سمجھ گئے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ زمین اور آسمان کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے اور ہر آسمان سے اس سے اوپر والے آسمان تک (بھی) پانچ سو سال کی مسافت ہے اور ہر آسمان کا اپنا حجم پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ پھر ساتویں آسمان کے اوپر ایک دریا ہے جس کے نچلے حصے سے اوپر والے حصے تک پانچ سو سال کی مسافت ہے پھر اس سے اوپر آٹھ بکرے ہیں، ان کے کھروں سے ان کے سینگوں تک پانچوں سال کی مسافت ہے اور اللہ تعالیٰ (کی شان) اس سے بھی بلند و بالا ہے اور انسان کا کوئی عمل بھی اس سے مخفی نہیں ہے۔ ٭٭ (یہ حدیث) صحیح ہے اور میں کہتا ہوں کہ یحیی کمزور راوی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3174]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3174 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف جدًا، يحيى بن العلاء متروك ووهّاه الذهبي في "تلخيصه"، إلَّا أنه قد توبع عليه، وسماك بن حرب صدوق لكنه ليس بذاك الحُجَّة، وقد تفرَّد بالرواية عن عبد الله عميرة، وهذا لا يُعرَف، والإسناد بينه وبين العبَّاس معضل أو منقطع.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند سخت ضعیف ہے؛ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یحییٰ بن علاء ’متروک‘ ہیں اور ذہبی نے "تلخیص" میں انہیں کمزور قرار دیا ہے، تاہم ان کی متابعت کی گئی ہے۔ اور سماك بن حرب صدوق ہیں لیکن حجت نہیں ہیں، اور وہ عبداللہ عمیرہ سے روایت کرنے میں منفرد ہیں، اور یہ (عبداللہ عمیرہ) معروف نہیں (مجہول) ہیں، اور ان کے اور عباس رضی اللہ عنہ کے درمیان سند معضل یا منقطع ہے۔
وسيأتي مكررًا برقم (3469) و (3589) و (3891).
🧾 تفصیلِ روایت: اور یہ آگے نمبر (3469)، (3589) اور (3891) پر مکرر آئے گا۔
وأخرجه أحمد 3 / (1770) عن عبد الرزاق، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد نے 3/ (1770) میں عبدالرزاق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أبو داود (4723 - 4725)، وابن ماجه (193)، والترمذي (3320) من طرق عن سماك بن حرب، به - بزيادة الأحنف بن قيس في إسناده بين عبد الله بن عميرة والعبَّاس.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی مثل ابوداؤد نے (4723 - 4725)، ابن ماجہ نے (193)، اور ترمذی نے (3320) میں سماک بن حرب کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے - 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس میں عبداللہ بن عمیرہ اور عباس کے درمیان احنف بن قیس کے واسطے کا اضافہ ہے۔
وسيأتي مختصرًا بقصة الأوعال برقم (3470) و (3890) من طريق شريك عن سماك موقوفًا على العبَّاس، وزاد في الموضع الثاني الأحنفَ.
🧾 تفصیلِ روایت: اور یہ آگے نمبر (3470) اور (3890) پر ’أوعال‘ (پہاڑی بکروں) کے قصے کے ساتھ مختصراً شریک عن سماک کے طریق سے عباس رضی اللہ عنہ پر موقوفاً آئے گا، اور دوسرے مقام پر (راوی نے) احنف کا اضافہ کیا ہے۔
والبطحاء: هي المحصَّب، وهو موضع معروف بمكة.
📝 نوٹ / توضیح: "البطحاء": یہ ’المحصّب‘ ہے، اور یہ مکہ میں ایک معروف جگہ ہے۔
والأوعال: جمع وَعِلٍ، وهو تيس الجبل، قال ابن الأثير في "النهاية": أي: ملائكة على صورة الأوعال!!
📝 نوٹ / توضیح: "الأوعال": وَعِل کی جمع ہے، اور یہ پہاڑی بکرا ہوتا ہے۔ ابن اثیر نے "النهاية" میں کہا: یعنی وہ فرشتے جو پہاڑی بکروں کی شکل میں ہیں!!