المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
70. فرضية الحج فى العمر مرة واحدة
زندگی میں حج صرف ایک ہی مرتبہ فرض ہے
حدیث نمبر: 3193
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل البَجَلي، حدثنا عفّان بن مُسلِم، حدثنا سليمان بن كثير قال: سمعت ابنَ شِهاب يحدِّث عن أبي سِنَان، عن ابن عبَّاس قال: خَطَبَنا رسولُ الله ﷺ فقال:"يا أيها الناس، إنَّ الله كَتَبَ عليكم الحجَّ" فقام الأقرعُ بن حابس فقال: أفي كلِّ عام يا رسول الله؟ قال:"لو قلتها لوَجَبَت، ولو وَجَبَت لم تَعمَلوا بها -أو لم تستطيعوا أن تعملوا بها- الحجُّ مرَّةً، فمن زادَ فتطوُّعٌ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وهكذا رواه سفيان بن حسين الواسطي عن الزُّهري:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3155 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وهكذا رواه سفيان بن حسين الواسطي عن الزُّهري:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3155 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا (عبداللہ) بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا: اے لوگو! بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کیا ہے۔ تو سیدنا اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر بولے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں (ہاں) کہہ دیتا تو (ہر سال حج) فرض ہو جاتا اور اگر (ہر سال) فرض ہو جاتا تو تم اس پر عمل نہ کرتے اور نہ تم میں اس کی استطاعت ہوتی۔ حج (تمام عمر میں) ایک دفعہ فرض ہے جو اس سے زائد ہے وہ نفل ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ سفیان بن حسین الواسطی نے زہری کے حوالے سے یہ حدیث روایت کی ہے جیسا کہ درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3193]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3193 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل سليمان بن كثير، وهو -وإن تُكلِّم في روايته عن ابن شهاب الزهري- قد توبع. أبو سنان: هو يزيد بن أُمية الدؤلي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ سند سلیمان بن کثیر کی وجہ سے ’حسن‘ ہے؛ وہ - اگرچہ ان کی ابن شہاب زہری سے روایت میں کلام کیا گیا ہے - لیکن ان کی متابعت کی گئی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو سنان سے مراد ’یزید بن امیہ الدؤلی‘ ہیں۔
وأخرجه أحمد 4 / (2304) عن عفان بن مسلم بهذا الإسناد. وانظر ما بعده وما سلف برقم (1626).
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد نے 4/ (2304) میں عفان بن مسلم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: اور اس کے بعد والا، اور جو نمبر (1626) پر گزر چکا ہے اسے دیکھیں۔