المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
76. كان آخر كلام إبراهيم حين ألقي فى النار ( حسبي الله ونعم الوكيل )
جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو ان کا آخری کلمہ یہ تھا: اللہ مجھے کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے
حدیث نمبر: 3207
أخبرني يحيى بن منصور القاضي، حدثنا أبو عمرو المُستَملي، حدثنا أبو هشام الرِّفاعي، حدثنا أبو بكر بن عيَّاش، حدثنا أبو إسحاق، حدثنا أبو وائل قال: قال عبد الله: ﴿سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ [آل عمران:180] قال: ثُعبانٌ له زَبيبتان يَنهَشُه في قبره، يقول: أنا مالُك الذي بَخِلتَ به (1) . سمعت يحيى بن منصور يقول: سمعت أبا عمرو المُستَملي يقول: سمعت أبا هشام الرِّفاعي يقول: سمعت أبا بكر بن عيَّاش يقول: والله ما كَذَبَتُ على أبي إسحاق، ولا أرى أبا إسحاق كَذَبَ على أبي وائل، ولا أرى أبا وائل كَذَبَ على عبد الله. رواه الثَّوْريُّ عن أبي إسحاق:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3169 - على شرط البخاري ومسلم_x000D_ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فِي قَوْلِهِ"" {سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ} [آل عمران: 180] قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: يَجِيئُهُ ثُعْبَانٌ فَيَنْقُرُ رَأْسَهُ ثُمَّ يَتَطَوَّقُ فِي عُنُقِهِ ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا مَالُكَ الَّذِي بَخِلْتَ بِهِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ»
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3169 - على شرط البخاري ومسلم_x000D_ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فِي قَوْلِهِ"" {سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ} [آل عمران: 180] قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: يَجِيئُهُ ثُعْبَانٌ فَيَنْقُرُ رَأْسَهُ ثُمَّ يَتَطَوَّقُ فِي عُنُقِهِ ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا مَالُكَ الَّذِي بَخِلْتَ بِهِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ»
سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِہٖ یَوْمَ الْقِیٰامَۃِ) (آل عمران: 180) ” عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہو گا “۔ (، م) کے متعلق فرماتے ہیں: ایک بہت بڑا اژدھا، جس کی دو زبانیں ہوں گی وہ اس کو قبر میں ڈسے گا اور کہے گا: میں ہوں تیرا وہ مال جس میں تو بخل کیا کرتا تھا۔ ابوبکر بن عیاش کہتے ہیں: خدا کی قسم! میں نے ابواسحاق کے بارے میں جھوٹ نہیں بولا اور میں نہیں سمجھتا کہ ابواسحاق نے ابووائل پر جھوٹ باندھا ہو اور نہ ہی میں یہ سمجھتا ہوں کہ ابووائل نے عبداللہ پر جھوٹ باندھا ہو گا۔ ٭٭ اسی حدیث کو ثوری نے ابواسحاق سے روایت کیا ہے (جیسا کہ درج ذیل ہے) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ (آل عمران: 180) ” عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہو گا “۔ کے متعلق فرماتے ہیں: اس کے پاس ایک اژدھا آئے گا وہ اس کے سر میں سوراخ کر دے گا اور اس کے گلے میں لپٹ جائے گا اور کہے گا: میں تیرا وہی مال ہوں جس میں تو بخل کیا کرتا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3207]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3207 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) منكر بهذا السياق، علَّته أبو هشام الرفاعي -واسمه محمد بن يزيد بن محمد- وهو ليس بالقوي، وقد تفرّد بذِكْر القبر فيه، خالفه أبو بكر بن أبي شيبة في "مصنفه" 3/ 213 فرواه عن أبي بكر بن عياش دون ذكر القبر، كما في رواية سفيان الثوري عن أبي إسحاق التالية عند المصنف، وصريح الآية يشير إلى يوم القيامة.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ اس سیاق کے ساتھ ’منکر‘ ہے؛ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی علت ابو ہشام الرفاعی (محمد بن یزید بن محمد) ہیں، وہ قوی نہیں ہیں، اور وہ اس میں ’قبر‘ کا ذکر کرنے میں منفرد ہیں۔ ان کی مخالفت ابو بکر بن ابی شیبہ نے اپنی "مصنف" 3/ 213 میں کی ہے، چنانچہ انہوں نے اسے ابو بکر بن عیاش سے قبر کے ذکر کے بغیر روایت کیا ہے، جیسا کہ سفیان ثوری کی ابو اسحاق سے اگلی روایت (جو مصنف کے ہاں ہے) میں ہے۔ اور آیت کی صراحت بھی روزِ قیامت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
وأما حديث أبي هشام الرفاعي فقد أخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 37/ 329 من طريق جعفر بن محمد الجروي، عن أبي هشام الرفاعي، به.
📖 حوالہ / مصدر: رہی ابو ہشام الرفاعی کی حدیث، تو اسے ابن عساکر نے "تاريخ دمشق" 37/ 329 میں جعفر بن محمد الجروی کے طریق سے، انہوں نے ابو ہشام الرفاعی سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔