المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
77. موضع سوط فى الجنة لخير من الدنيا وما فيها
جنت میں کوڑے کے برابر جگہ بھی دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے
حدیث نمبر: 3209
حدثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن عبد الله الدَّقاق ببغداد، حدثنا أحمد بن عبيد الله النَّرْسي، حدثنا أبو بدر شُجاع بن الوليد، حدثنا محمد بن عمرو ابن عَلْقمة، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ موضعَ سَوْطٍ في الجنة لخيرٌ من الدنيا وما فيها" اقرؤوا إن شئتم: ﴿فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ﴾ [آل عمران: 185] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3170 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3170 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنت میں صرف اتنی جگہ جہاں کوڑ ڈالا جاتا ہے، دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سب سے بہتر ہے۔ اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ کر دیکھ لو: فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ وَ مَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ (آل عمران: 185) ” جو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچا اور دنیا کی زندگی تو یہی دھوکے کا مال ہے “۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3209]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3209 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ سند حسن ہے۔
وأخرجه أحمد 15 / (9651)، والترمذي (3013) و (3292)، والنسائي (11019)، وابن حبان (7417) من طرق عن محمد بن عمرو، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد نے 15/ (9651)، ترمذی نے (3013) اور (3292)، نسائی نے (11019)، اور ابن حبان نے (7417) میں محمد بن عمرو کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه بمعناه أحمد 13/ (8167) و 16 / (10260) و (10270)، والبخاري (2793) و (3253)، وابن حبان (6158) و (7418) من طرق عن أبي هريرة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اسی مفہوم کے ساتھ احمد نے 13/ (8167) اور 16/ (10260) اور (10270) میں، بخاری نے (2793) اور (3253) میں، اور ابن حبان نے (6158) اور (7418) میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے مختلف طرق سے تخریج کیا ہے۔