🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
77. مَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ لَخَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا
جنت میں کوڑے کے برابر جگہ بھی دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3212
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب بن يوسف الشَّيباني، حدثني أبي، حدثنا عبد الله بن الجرَّاح القُهُسْتاني، حدثنا الحارث بن مسلم، عن بَحْر السَّقَاء، عن عمرو بن دينار، عن جابر بن عبد الله؛ قال (2) : قلتُ له: أخبرني عن قول الله ﷿: ﴿يُرِيدُونَ أَنْ يَخْرُجُوا مِنَ النَّارِ وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنْهَا﴾ [المائدة: 37] قال: أخبَرني رسول الله ﷺ أنهم الكفّار. قال: قلتُ لجابر: فقوله: ﴿إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ﴾ [آل عمران: 192] ، قال: اللهُ قد أَخزاه حين أحرَقَه بالنار، أوَدُونَ ذلك الخِزيُ؟! (3)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3173 - بحر السقاء هالك
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، (راوی کہتے ہیں کہ) میں نے ان سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿يُرِيدُونَ أَنْ يَخْرُجُوا مِنَ النَّارِ وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنْهَا﴾ وہ آگ سے نکلنا چاہیں گے لیکن اس سے ہرگز نہیں نکل سکیں گے [سورة المائدة: 37] کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اس سے مراد کفار ہیں۔ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے (دوبارہ) پوچھا کہ (پھر) اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد (کا کیا مطلب ہے): ﴿إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ﴾ اے ہمارے رب! یقیناً تو نے جسے آگ میں ڈال دیا، اسے رسوا کر دیا [سورة آل عمران: 192] ، تو انہوں نے فرمایا: اللہ نے اسے اسی وقت رسوا کر دیا جب اسے آگ میں جلایا، بھلا کیا اس (آگ کے عذاب) سے بڑھ کر بھی کوئی رسوائی ہو سکتی ہے؟ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3212]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًا من أجل بحر السَّقّاء: وهو بحر بن كُنيز، وقال الذهبي في "تلخيصه": بحر هالك.» [ترقيم الرساله 3212] [ترقيم الشركة 3192] [ترقيم العلميه 3173]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًا من أجل بحر السَّقّاء: وهو بحر بن كُنيز

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3212 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) القائل هو عمرو بن دينار.
📝 نوٹ / توضیح: (یہ) کہنے والے عمرو بن دینار ہیں۔
(3) إسناده ضعيف جدًا من أجل بحر السَّقّاء: وهو بحر بن كُنيز، وقال الذهبي في "تلخيصه": بحر هالك.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند بحر السقاء (بحر بن کنیز) کی وجہ سے سخت ضعیف ہے، اور ذہبی نے "تلخیص" میں کہا: بحر ’ہالک‘ (برباد) ہے۔
وأخرج الشطر الثاني منه الطبري في "تفسيره" 4/ 211 من طريق إسحاق -وهو ابن الحجاج الطاحوني- عن الحارث بن مسلم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اور اس کا دوسرا حصہ طبری نے اپنی "تفسیر" 4/ 211 میں اسحاق (ابن الحجاج الطاحونی) کے طریق سے، انہوں نے حارث بن مسلم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 3212 in Urdu