المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
84. فضيلة التيسير على الموسر وإنظار المعسر
مالدار پر نرمی کرنے اور تنگ دست کو مہلت دینے کی فضیلت
حدیث نمبر: 3237
أخبرني أبو بكر بن أبي نصر المروَزي، حدثنا عبد العزيز بن حاتم، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن سعد، حدثنا عمرو بن أبي قيس، عن مُطرِّف، عن المنهال بن عمرو، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس: أنَّ رجلًا سأله عن هذه الآية: ﴿وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ﴾ [الأنعام: 23] ، وقال في آية أخرى: ﴿وَلَا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثًا﴾ [النساء: 42] ، فقال ابن عبَّاس: أما قوله: ﴿وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ﴾ فإنهم لما رأَوْا يومَ القيامة أنه لا يدخل الجنةَ إِلَّا أَهل الإسلام، قالوا: تعالَوا فلنَجحَدْ، فَخَتَمَ الله على أفواهِهم، فتكلَّمت أيديهم وأرجلُهم، فلا يَكتُمون اللهَ حديثًا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3198 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3198 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: ایک آدمی نے آپ سے اس آیت کے متعلق پوچھا: وَ اللّٰہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ (الانعام: 23) ” ہمیں اپنے رب اللہ کی قسم کہ ہم مشرک نہ تھے “۔ “ اور دوسری آیت میں ہے: وَلَا یَکْتُمُوْنَ اللّٰہَ حَدِیْثًا) (النساء: 42) ” اور کوئی بات اللہ سے نہ چھپا سکیں گے “۔ ابن عباس نے کہا:” وَاللّٰہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ “ کا مطلب یہ ہے کہ جب مشرکین قیامت کے دن دیکھ لیں گے کہ جنت میں تو صرف مسلمان ہی جا رہے ہیں تو وہ (ایک دوسرے سے) کہیں گے: آؤ ہم اپنے شرک کا انکار کر دیں۔ تو اللہ تعالیٰ ان کے منہ سیل بند کر دے گا۔ پھر ان کے ہاتھ اور پاؤں ان کے خلاف گواہی دے دیں گے ” تو وہ اللہ سے کوئی بات چھپا نہیں پائیں گے “۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3237]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3237 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل عبد العزيز بن حاتم وعمرو بن أبي قيس. مطرف: هو ابن طريف.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند عبدالعزیز بن حاتم اور عمرو بن ابی قیس کی وجہ سے ’حسن‘ ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: مطرف سے مراد ’ابن طریف‘ ہیں۔
وأخرجه الطبراني في "تفسيره" 5/ 94، وكذا ابن أبي حاتم 4/ 1274 و 8/ 2558 من طريقين عن عمرو بن أبي قيس، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے اپنی "تفسیر" 5/ 94 میں، اور اسی طرح ابن ابی حاتم نے 4/ 1274 اور 8/ 2558 میں عمرو بن ابی قیس سے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔