المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
85. شأن نزول آية : ( لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى )
آیت“نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ”کے نازل ہونے کا سبب
حدیث نمبر: 3238
أخبرنا محمد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا أبو نُعيم وقَبِيصة قالا: حدثنا سفيان، عن عطاء بن السائب، عن أبي عبد الرحمن، عن عليٍّ قال: دعانا رجلٌ من الأنصار قبل تحريم الخمر، فحَضَرَت صلاةُ المغرب، فتقدَّم رجلٌ فقرأ ﴿قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ فالتبس عليه، فنزلت: ﴿لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ﴾ الآية [النساء:43] (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وفي هذا الحديث فائدة كبيرة، وهي أنَّ الخوارج تَنُسب هذا السُّكرَ وهذه القراءةَ إلى أمير المؤمنين عليِّ بن أبي طالب دون غيره، وقد برَّأَه الله منها، فإنه راوي هذا الحديث!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3199 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وفي هذا الحديث فائدة كبيرة، وهي أنَّ الخوارج تَنُسب هذا السُّكرَ وهذه القراءةَ إلى أمير المؤمنين عليِّ بن أبي طالب دون غيره، وقد برَّأَه الله منها، فإنه راوي هذا الحديث!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3199 - صحيح
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: شراب کی حرمت کا حکم نازل ہونے سے قبل ایک انصاری صحابی نے ہماری دعوت کی، جب نماز مغرب کا وقت ہوا تو ایک آدمی نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی۔ اس نے ” قُلْ یٰٓاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ “ سورۃ پڑھی، تو وہ اس سورت کے الفاظ خلط ملط کر گیا۔ تب یہ آیت نازل ہوئی: (لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوۃَ وَ اَنْتُمْ سُکَارٰی حَتّٰی تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ (النساء: 43) ” نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ جب تک اتنا ہوش نہ ہو کہ جو کہو اسے سمجھو “۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ اور حدیث میں بہت فوائد ہیں وہ یہ کہ خوارج اس شراب نوشی اور اس قراءت کو سیدنا علی کی طرف منسوب کرتے ہیں اور دیگر صحابہ کی طرف یہ نسبت نہیں کرتے جبکہ خود اللہ تعالیٰ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس سے بری فرما دیا کیونکہ اس حدیث کے راوی خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3238]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3238 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح، ورواية سفيان -وهو الثوري- عن عطاء قبل الاختلاط، لكن اختُلف عليه فيمن أمهم في هذه الصلاة كما سيأتي بيانه عند الروايات (7406 - 7408).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے؛ اور سفیان (ثوری) کی عطاء سے روایت اختلاط سے پہلے کی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: لیکن ان پر اس بات میں اختلاف ہوا ہے کہ اس نماز میں ان کی امامت کس نے کروائی تھی، جیسا کہ اس کا بیان روایات (7406 - 7408) کے ذیل میں آئے گا۔