🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
96. شأن نزول آية : ( ويسألونك عن اليتامى )
آیت“اور وہ تم سے یتیموں کے بارے میں سوال کرتے ہیں”کے نازل ہونے کا سبب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3280
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا أبو بكر بن عيَّاش، حدثنا عاصم بن أبي النَّجُود. وأخبرني الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حمَّاد بن زيد، حدثنا عاصم، عن أبي وائل، عن عبد الله قال: خَطَّ لنا رسول الله ﷺ خَطًّا، ثم خَطَّ عن يمينِه وعن شمالِه خُطوطًا، ثم قال:"هذا سبيلُ الله، وهذه السُّبُلُ على كلِّ سبيل منها شيطان يَدعُو إليه" ثمَّ تلا: ﴿وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ﴾ [الأنعام: 153] (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وشاهده لفظًا واحدًا حديثُ الشَّعْبي عن جابر من وجهٍ غير مُعتمَد (1) . [7 - سورة الأعراف]
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لکیر کھینچی پھر اس کے دائیں بائیں متعدد لکیریں کھینچیں۔ پھر فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے اور ان راستوں میں سے ہر ایک پر شیطان موجود ہے، جو ان راستوں کی طرف بلاتا ہے (پھر آپ نے یہ آیت پڑھی): وَ اَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ (الانعام: 153) اور یہ کہ یہ ہے میرا سیدھا راستہ تو اس پر چلو اور اور راہیں نہ چلو کہیں تمہیں اس کی راہوں سے جدا کر دیں گی ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ انہی الفاظ میں شعبی کی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد بھی موجود ہے تاہم وہ ناقابل اعتماد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3280]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3280 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده حسن من أجل عاصم بن أبي النجود. أبو وائل: هو شقيق بن سلمة، وعبد الله: هو ابن مسعود ﵁.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند عاصم بن ابی النجود کی وجہ سے حسن ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: (سند میں موجود) ابو وائل: ان کا نام شقیق بن سلمہ ہے، اور عبداللہ: یہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔
وقد خالف الحاكمَ في الإسناد الأول لهذا الحديث الإمامُ المحدِّث المفسِّر أبو القاسم الحسن ابن محمد بن الحسن عند أبي إسحاق الثعلبي في "تفسيره" 1/ 121، فرواه عن أبي العبَّاس محمد بن يعقوب، فجعله من رواية زر بن حُبيش عن أبي وائل عن ابن مسعود، وكذلك وقع في رواية محمد بن إسحاق الصغاني عن سليمان بن حرب عن حماد بن زيد عند ابن بطة في "الإبانة الكبرى" 1/ 293، وسلف عند المصنف برقم (2975) من رواية أحمد بن عبد الله بن يونس عن أبي بكر بن عياش عن عاصم عن زر عن ابن مسعود. ومهما يكن من أمر فإنَّ زرًّا وأبا وائل ثقتان جليلان من أصحاب ابن مسعود، فالخلاف عليهما لا يضر، ولعلَّ هذا الحديث -كما قال الحافظ ابن كثير في "تفسيره"- عند عاصم عن زر وعن أبي وائل كلاهما عن ابن مسعود به، والله أعلم.
🔍 فنی نکتہ / علّت: امام حاکم کی اس حدیث کی پہلی سند میں مخالفت کی گئی ہے۔ چنانچہ امام، محدث اور مفسر ابوالقاسم الحسن بن محمد بن الحسن نے ابواسحاق ثعلبی کی "تفسیر" (1/ 121) میں اسے ابو العباس محمد بن یعقوب سے روایت کرتے ہوئے اسے "زر بن حبیش عن ابی وائل عن ابن مسعود" کی سند سے بیان کیا ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح ابن بطہ نے "الابانہ الکبریٰ" (1/ 293) میں محمد بن اسحاق صغانی، عن سلیمان بن حرب، عن حماد بن زید کی سند میں بھی یہی پایا گیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: اور مصنف (حاکم) کے ہاں رقم (2975) پر یہ حدیث احمد بن عبداللہ بن یونس، عن ابی بکر بن عیاش، عن عاصم، عن زر، عن ابن مسعود کی سند سے گزر چکی ہے۔ 📌 اہم نکتہ: معاملہ جو بھی ہو، زر بن حبیش اور ابو وائل دونوں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے جلیل القدر اور ثقہ اصحاب میں سے ہیں، لہٰذا ان دونوں پر ہونے والا اختلاف (سند میں) مضر نہیں ہے۔ شاید یہ حدیث - جیسا کہ حافظ ابن کثیر نے اپنی "تفسیر" میں فرمایا ہے - عاصم کے پاس "عن زر" اور "عن ابی وائل" دونوں طریقوں سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ واللہ اعلم۔
وأخرجه أحمد (7/ 4437) عن أسود بن عامر، عن أبي بكر بن عياش، عن عاصم، عن أبي وائل، عن ابن مسعود.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے امام احمد (7/ 4437) نے اسود بن عامر سے، انہوں نے ابوبکر بن عیاش سے، انہوں نے عاصم سے، انہوں نے ابو وائل سے اور انہوں نے ابن مسعود سے روایت کیا ہے۔
وأما بالإسناد الثاني، فقد أخرجه أحمد (4142)، والنسائي (11109)، وابن حبان (6) و (7) من طرق عن حماد بن زيد به.
📖 حوالہ / مصدر: جہاں تک دوسری سند کا تعلق ہے، تو اسے امام احمد (4142)، نسائی (11109) اور ابن حبان (6، 7) نے حماد بن زید سے مختلف طرق کے ساتھ اسی طرح روایت کیا ہے۔
(1) وذلك لأنَّ راويه عن الشعبي هو مجالد بن سعيد، وهو ضعيف عند جمهور المحدِّثين. وأخرجه من حديثه أحمد 23/ (15277) وابن ماجه (11).
🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ یہ ہے کہ امام شعبی سے اس کا راوی "مجالد بن سعید" ہے، اور وہ جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (15277) اور ابن ماجہ (11) نے انہی (مجالد) کی روایت سے نکالا ہے۔