المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
107. شأن نزول : ( إن تستفتحوا فقد جاءكم الفتح )
آیت“اگر تم فتح مانگتے تھے تو وہ فتح تمہارے پاس آچکی”کے نازل ہونے کا سبب
حدیث نمبر: 3304
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا جَرِير، عن الأعمش، عن عبد الله بن عبد الله، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ﴾ [الأنفال: 24] ، قال: يَحُول بين الكافر وبين الإيمان، ويَحُول بين المؤمن وبين المعاصي (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3265 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3265 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد: اَنَّ اللّٰہَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْئِ وَ قَلْبِہٖ (الانفال: 24) ” اور اللہ کا حکم آدمی اور اس کے دلی ارادوں میں حائل ہو جاتا ہے “۔ کے متعلق فرماتے ہیں: (اللہ تعالیٰ کا حکم) کافر اور ایمان کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور مومن اور گناہوں کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3304]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3304 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. إسحاق: هو ابن راهويه، وجرير: هو ابن عبد الحميد، وعبد الله بن عبد الله: هو الرازي مولى بني هاشم.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: (سند میں موجود) اسحاق: یہ ابن راہویہ ہیں، جریر: یہ ابن عبدالحمید ہیں، اور عبداللہ بن عبداللہ: یہ الرازی مولیٰ بنی ہاشم ہیں۔
وأخرجه ابن بطة في "الإبانة" 4/ 159 من طريقين عن جرير بن عبد الحميد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن بطہ نے "الابانہ" (4/ 159) میں دو طریقوں سے جریر بن عبدالحمید سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي حاتم في "تفسيره" 5/ 1680، واللالكائي في "أصول الاعتقاد" (964 - 965)، والبيهقي في "القضاء والقدر" (326) من طريقين عن الأعمش، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی حاتم نے اپنی "تفسیر" (5/ 1680)، لالکائی نے "اصول الاعتقاد" (964-965) اور بیہقی نے "القضاء والقدر" (326) میں دو طریقوں سے اعمش سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔