🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
107. شأن نزول : ( إن تستفتحوا فقد جاءكم الفتح )
آیت“اگر تم فتح مانگتے تھے تو وہ فتح تمہارے پاس آچکی”کے نازل ہونے کا سبب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3307
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق ابن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن ابن طاووس، عن أبيه، عن ابن عبَّاس قال: إنَّ الرَّحِمَ لتُقطَعُ، وإنَّ النِّعمةَ لتُكفَرُ، وإن الله إذا قارَبَ بين القلوب، لم يُزحزِحْها شيءٌ؛ ثم قرأ: ﴿لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ﴾ [الأنفال: 63] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3268 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: بے شک رشتہ داریاں توڑ دی جاتی ہیں اور نعمتوں کی ناشکری کی جاتی ہے اور بے شک جب اللہ تعالیٰ دلوں میں قربت ڈال دیتا ہے تو کوئی چیز ان میں رخنہ نہیں ڈال سکتی۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّآ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِھِمْ (الانفال: 63) اگر تم زمین میں جو کچھ ہے سب خرچ کر دیتے ان کے دل نہ ملا سکتے ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3307]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3307 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. ابن طاووس: هو عبد الله. وقد سلف برقم (3218).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ابن طاؤس: یہ عبداللہ ہیں۔ اور یہ روایت رقم (3218) پر گزر چکی ہے۔