المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
107. شَأْنُ نُزُولِ : ( إِنْ تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَاءَكُمُ الْفَتْحُ )
آیت“اگر تم فتح مانگتے تھے تو وہ فتح تمہارے پاس آچکی”کے نازل ہونے کا سبب
حدیث نمبر: 3307
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق ابن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن ابن طاووس، عن أبيه، عن ابن عبَّاس قال: إنَّ الرَّحِمَ لتُقطَعُ، وإنَّ النِّعمةَ لتُكفَرُ، وإن الله إذا قارَبَ بين القلوب، لم يُزحزِحْها شيءٌ؛ ثم قرأ: ﴿لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ﴾ [الأنفال: 63] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3268 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3268 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”بلاشبہ رشتہ داری کاٹ دی جاتی ہے اور نعمت کی ناشکری کی جاتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ جب دلوں کے درمیان الفت پیدا کر دیتا ہے تو پھر کوئی چیز انہیں جدا نہیں کر سکتی“، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ﴿لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ﴾ ”اگر آپ زمین میں موجود تمام خزانے بھی خرچ کر دیتے تو ان کے دلوں میں الفت پیدا نہ کر سکتے“ [سورة الأنفال: 63] ۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3307]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3307]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،ابن طاووس: هو عبد الله. وقد سلف برقم (3218).» [ترقيم الرساله 3307] [ترقيم الشركة 3287] [ترقيم العلميه 3268]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3307 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. ابن طاووس: هو عبد الله. وقد سلف برقم (3218).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ابن طاؤس: یہ عبداللہ ہیں۔ اور یہ روایت رقم (3218) پر گزر چکی ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 3307 in Urdu