🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
113. المسجد الذى أسس على التقوى مسجد رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم
وہ مسجد جو تقویٰ پر قائم کی گئی وہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3328
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الصَّفّار، حدثنا أحمد بن محمد البِرْتي، حدثنا أبو نُعيم وأبو حُذيفة قالا: حدثنا سفيان. وأخبرني علي بن عيسى بن إبراهيم، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن أبي إسحاق، عن أبي الخَليل، عن عليٍّ قال: سمعتُ رجلًا يستغفرُ لأبويه وهما مُشرِكان، فقلت: لا تَستغفِرْ لأبويك وهما مشركان، فقال: أليس قد استَغفَر إبراهيمُ لأبيه وهو مشركٌ؟ فذَكَرتُه للنبي ﷺ، فنزلت: ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ (113) وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ﴾ [التوبة: 113 - 114] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3289 - صحيح
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے ایک آدمی کو اس کے مشرک والدین کے لیے دعا مانگتے سنا تو میں نے اس سے کہا: تو اپنے مشرک والدین کے لیے دعائے مغفرت مت کر۔ اس نے کہا: کیا سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے مشرک باپ کے لیے دعائے مغفرت نہیں کی تھی (سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو یہ آیت نازل ہوئی: (مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْآ اَنْ یّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِکِیْنَ وَلَوْ کَانُوْآ اُولِیْ قُرْبٰی مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ) (التوبۃ: 113) نبی اور ایمان والوں کو لائق نہیں کہ مشرکوں کی بخشش چاہیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہوں جبکہ انہیں کھل چکا کہ وہ دوزخی ہیں ، (وَمَا کَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرَاھِیْمَ لِاَبِیْہِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَۃٍ وَّعَدَھَآ اِیَّاہُ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗٓ اَنَّہُ عَدُوٌّ لِّلَّہِ تَبَرَّاَ مِنْہُ اِنَّ اِبْرَاھِیْمَ لَاَوَّاہٌ حَلِیْمٌ) (التوبۃ: 114) اور ابراہیم علیہ السلام کا اپنے باپ کی بخشش چاہنا وہ تو نہ تھا مگر ایک وعدے کے سبب جو اس سے کر چکا تھا پھر جب ابراہیم کو کھل گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے اس سے تنکا توڑ دیا (لاتعلق ہو گیا) بے شک ابراہیم بہت آہیں بھرنے والا متحمل ہے، ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3328]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3328 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل أبي الخليل: واسمه عبد الله بن أبي الخليل، وقيل: ابن الخليل. أبو نعيم: هو الفضل بن دكين، وأبو حذيفة: هو موسى بن مسعود النهدي، وسفيان: هو الثوري، وأبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ابوالخلیل (عبداللہ بن ابی الخلیل، یا ابن الخلیل) کی وجہ سے حسن ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ابونعیم: یہ فضل بن دکین ہیں، ابو حذیفہ: یہ موسیٰ بن مسعود نہدی ہیں، سفیان: یہ ثوری ہیں، اور ابواسحاق: یہ عمرو بن عبداللہ السبیعی ہیں۔
وأخرجه أحمد 2/ (1085)، والترمذي (3101) من طريق وكيع، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (2/ 1085) اور ترمذی (3101) نے وکیع کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اور ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن ہے۔
وأخرجه أحمد 2/ (771) و (1085)، والنسائي (2174) من طريقين عن سفيان، به. وسيأتي برقم (4072).
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے احمد (2/ 771، 1085) اور نسائی (2174) نے سفیان سے دو طریقوں کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اور یہ آگے نمبر (4072) پر آئے گا۔