🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
115. زِيَارَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ
نبی ﷺ کا اپنی والدہ آمنہ کی قبر کی زیارت کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3334
أخبرني الحسين بن حَلِيم (3) المروزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا أبو خَلْدة، عن أبي العاليَةِ، قال: كنت أطوفُ مع ابن عبَّاس بالبيت، فكان يأخذُ بيدي، فيعلِّمُني لَحْنَ الكلام، فقال: يا أبا العاليَة، لا تقل: انصَرَفتُم من الصلاة، ولكن قل: قَضَيتُم الصلاة، فإنَّ الله يقول: ﴿انْصَرَفُوا صَرَفَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ﴾ [التوبة: 127] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3295 - صحيح
ابوالعالیہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے کلام کی باریکیاں سکھانے لگے، انہوں نے فرمایا: اے ابوالعالیہ! یوں نہ کہا کرو کہ تم نماز سے پھر گئے ( «انصَرَفتُم») بلکہ یوں کہا کرو کہ تم نے نماز مکمل کر لی ( «قَضَيتُم») کیونکہ (پھر جانے کے الفاظ اللہ نے منافقین کے لیے استعمال فرمائے ہیں جیسا کہ) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿انْصَرَفُوا صَرَفَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ﴾ [سورة التوبة: 127] وہ پھر گئے تو اللہ نے ان کے دلوں کو پھیر دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3334]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفَزَاري، وعبدان: هو عبد الله عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك، وأبو خلدة: هو خالد بن دينار التميمي، وأبو العالية: هو رفيع بن مِهران.» [ترقيم الرساله 3334] [ترقيم الشركة 3314] [ترقيم العلميه 3295]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3334 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: حكيم، وقد تكرر في العديد من المواضع في هذا الكتاب على الصواب.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "حکیم" بن گیا تھا، حالانکہ اس کتاب میں کئی جگہوں پر درست نام بھی مکرر آیا ہے۔
(1) إسناده صحيح. أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفَزَاري، وعبدان: هو عبد الله عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك، وأبو خلدة: هو خالد بن دينار التميمي، وأبو العالية: هو رفيع بن مِهران.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: (سند میں موجود) ابو الموَجِّہ: یہ محمد بن عمرو فزاری ہیں، عبدان: یہ عبداللہ بن عثمان مروزی ہیں، عبداللہ: یہ ابن المبارک ہیں، ابو خلدہ: یہ خالد بن دینار تمیمی ہیں، اور ابو العالیہ: یہ رفیع بن مہران ہیں۔
وأخرج نحوه سعيد بن منصور في التفسير من "سننه" (1052)، وابن أبي شيبة في "مصنفه" 2/ 382، والطبري في "تفسيره" 11/ 75، وكذا ابن أبي حاتم 6/ 1917 من طرق عن ابن عبَّاس.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسی کی مثل سعید بن منصور نے "سنن" کی تفسیر (1052) میں، ابن ابی شیبہ نے "مصنف" (2/ 382) میں، طبری نے "تفسیر" (11/ 75) میں، اور اسی طرح ابن ابی حاتم (6/ 1917) نے ابن عباس سے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 3334 in Urdu