🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

115. زِيَارَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ
نبی ﷺ کا اپنی والدہ آمنہ کی قبر کی زیارت کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3331
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا عبد الله ابن وهب، أخبرنا ابن جُرَيج، عن أيوب بن هانئ، عن مسروق بن الأجدَع، عن عبد الله بن مسعود قال: خَرَجَ رسول الله ﷺ يَنظُر في المقابر، وخرجنا معه، فأمَرَنا فجَلَسْنا، ثم تَخطَّى القبورَ حتى انتهى إلى قبرٍ منها، فناجاهُ طويلًا، ثم ارتَفَع نَحيبُ رسول الله ﷺ باكيًا، فبَكينا لبكاء رسول الله ﷺ، ثم إنَّ رسول الله ﷺ أقبل إلينا فتلقَّاه عمرُ بن الخطاب، فقال: يا رسول الله، ما الذي أبكاكَ؟ فقد أبكانا وأفزَعَنا، فجاء فجلس إلينا فقال:"أفزَعَكُم بُكائي؟" فقلنا: نعم يا رسول الله، فقال:"إنَّ القبر الذي رأيتموني أُناجي فيه قبرُ أُمي آمنةَ بنتِ وَهْب، وإني استأذنتُ ربِّي في زيارتها فأَذِنَ لي فيه، واستأذنتُه في الاستغفار لها فلم يَأذَنْ لي فيه، ونزل عليَّ: ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ﴾ -حتى ختم الآية- ﴿وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ﴾، فَأَخَذَني ما يأخُذُ الولدَ للوالدة من الرِّقَّة (1) ، فذلك الذي أبكاني" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه هكذا بهذه السِّياقة، إنما أخرج مسلم حديث يزيد بن كَيْسان عن أبي حازم عن أبي هريرة فيه مختصرًا (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3292 - أيوب بن هانىء ضعفه ابن معين
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان کی طرف معائنہ کرنے کے لیے نکلے، اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تو ہم بیٹھ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبروں کے درمیان سے گزرتے ہوئے ایک مخصوص قبر کے پاس پہنچے اور وہاں دیر تک سرگوشی فرماتے رہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رونے کی آواز (سسکیاں) بلند ہوئی، تو ہم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رونے کی وجہ سے رونے لگے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف تشریف لائے تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو کس چیز نے رلایا؟ آپ کے رونے نے ہمیں بھی رلا دیا اور سخت پریشان کر دیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمارے پاس بیٹھ کر فرمایا: کیا میرے رونے نے تمہیں پریشان کر دیا؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ قبر جس کے پاس تم نے مجھے مناجات کرتے ہوئے دیکھا وہ میری والدہ آمنہ بنت وہب کی قبر ہے، میں نے اپنے رب سے ان کی زیارت کی اجازت مانگی تو اس نے مجھے اس کی اجازت عطا فرما دی، اور میں نے ان کے لیے مغفرت طلب کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے اس کی اجازت نہیں دی گئی، اور مجھ پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ﴾ یہاں تک کہ آیت مکمل ہوئی ﴿وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ﴾، پس مجھ پر ویسی ہی رقت طاری ہو گئی جیسی ایک اولاد پر اپنی ماں کے لیے طاری ہوتی ہے، یہی وہ رقت تھی جس نے مجھے رلا دیا۔ [سورة التوبة: 113 - 114]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، البتہ امام مسلم نے یزید بن کیسان کی حدیث ابو حازم سے، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس موضوع پر مختصر روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3331]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، ابن جريج» [ترقيم الرساله 3331] [ترقيم الشركة 3311] [ترقيم العلميه 3292]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3332
أخبرني أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن، حدثنا أبو حُذَيفة، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن المِنهال بن عمرو، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس: أنه سُئِلَ عن قوله ﷿: ﴿وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ﴾ [هود: 7] ، على أيِّ شيء كان الماءُ؟ قال: على مَثْن الرِّيح (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3293 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے اللہ عزوجل کے اس فرمان: ﴿وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ﴾ [سورة هود: 7] اور اس کا عرش پانی پر تھا کے بارے میں پوچھا گیا کہ پانی کس چیز پر (ٹکا ہوا) تھا؟ تو انہوں نے فرمایا: تیز ہوا کی پشت (سطح) پر۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3332]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، أبو حذيفة -وهو موسى بن مسعود النهدي- وإن كان في روايته عن سفيان الثوري مقال قد تابعه عليه غير واحد من ثقات أصحاب سفيان، وهذا الخبر موقوف والغالب أنه مما تلَّقاه ابن عبَّاس عن أهل الكتاب فإنه لم يرد في شيء من الأحاديث عن النبي ﷺ ما يشير ...» [ترقيم الرساله 3332] [ترقيم الشركة 3312] [ترقيم العلميه 3293]

الحكم على الحديث: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3333
حدثني الحسن بن محمد بن إسحاق الإسفرايِيني، حدثنا عُمَير بن مِرداس، حدثنا محمد بن بُكَير الحضرمي، حدثنا عبد الله بن بُكَير الغَنَوي، حدثنا حَكيم بن جُبير (2) ، عن الحسن بن سعد مولى عليٍّ، عن علي: أنَّ رسول الله ﷺ أراد أن يغزوَ غَزاةً له، قال: فدعا جعفرًا فأمَره أن يَتخلَّفَ على المدينة، فقال: لا أتخلَّفُ بعدَك يا رسول الله أبدًا. قال: فدعاني رسول الله ﷺ، فعَزَمَ عليَّ لَمَا تَخلَّفْتُ قبل أن أتكلَّمَ، قال: فبكيتُ، فقال رسول الله ﷺ:"ما يُبكيكَ يا عليُّ؟" قلت: يا رسول الله، يُبكِيني خِصالٌ غيرُ واحدة: تقول قريشٌ غدًا: ما أسرَعَ ما تخلَّفَ عن ابن عمِّه وخَذَلَه، ويُبكيني خَصْلةٌ أخرى كنت أريد أن أتعرَّضَ للجهاد في سبيل الله، لأنَّ الله يقول: ﴿وَلَا يَطَئُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَيْلًا﴾ إلى آخر الآية [التوبة:120] ، فكنت أريد أن أتعرَّضَ لفَضْل الله، فقال رسول الله ﷺ:"أمّا قولُك: تقول قريشٌ: ما أسرَعَ ما تخلَّفَ عن ابن عمِّه وخَذَلَه، فإنَّ لك بي أُسوةً، قد قالوا: ساحر وكاهن وكذّاب، أمَا تَرضَى أن تكون منى بمنزلةِ هارونَ من موسى؟ إلَّا أنه لا نبيَّ بعدي، وأما قولُك: أتعرَّضُ لفَضْل الله، فهذه أبْهارٌ من فُلفُل جاءنا من اليمن، فبِعْه واستمتِعْ به أنت وفاطمةُ حتى يأتيَكم الله من فَضْله، فإنَّ المدينة لا تَصلُحُ إلَّا بي أو بك" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد (2) ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3294 - أنى له الصحبة والوضع لائح عليه
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی غزوے پر جانے کا ارادہ فرمایا تو سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کو بلا کر مدینہ میں پیچھے رہنے کا حکم دیا، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کے بعد کبھی پیچھے نہیں رہوں گا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور میرے کچھ بولنے سے پہلے ہی مجھ پر لازم کر دیا کہ میں پیچھے ٹھہروں، وہ کہتے ہیں کہ میں (یہ سن کر) رونے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے علی! تمہیں کیا چیز رلا رہی ہے؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایک سے زائد باتیں رلا رہی ہیں، ایک تو یہ کہ کل قریش کہیں گے کہ یہ کتنی جلدی اپنے چچا زاد بھائی سے پیچھے رہ گیا اور انہیں تنہا چھوڑ دیا، اور دوسری بات یہ ہے کہ میں اللہ کی راہ میں جہاد کی سعادت پانا چاہتا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَا يَطَئُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَيْلًا﴾ [سورة التوبة: 120] اور وہ کسی ایسی جگہ قدم نہیں رکھتے جو کافروں کو غصہ دلائے اور نہ دشمن سے کوئی کامیابی حاصل کرتے ہیں (آیت کے آخر تک)، پس میں اللہ کا فضل حاصل کرنا چاہتا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاں تک تمہاری اس بات کا تعلق ہے کہ قریش کہیں گے کہ تم نے اپنے بھائی کو چھوڑ دیا، تو تمہارے لیے میری ذات میں بہترین نمونہ ہے، انہوں نے تو مجھے جادوگر، کاہن اور جھوٹا بھی کہا، کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تمہارا میرے ساتھ وہی مقام ہو جو ہارون (علیہ السلام) کا موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ تھا؟ سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں، اور جہاں تک تمہارا اللہ کا فضل تلاش کرنے کا شوق ہے تو یہ یمن سے آئی ہوئی کالی مرچ کی کچھ بوریاں ہیں، انہیں بیچو اور تم اور فاطمہ اس سے فائدہ اٹھاؤ یہاں تک کہ اللہ تمہیں اپنے فضل سے مزید عطا فرما دے، کیونکہ مدینہ کی فلاح میرے یا تمہارے بغیر ممکن نہیں ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3333]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًا، عبد الله بن بكير الغنوي منكر الحديث كما قال الذهبي في "تلخيصه"، وشيخه حكيم بن جبير متَّفق على ضعفه.» [ترقيم الرساله 3333] [ترقيم الشركة 3313] [ترقيم العلميه 3294]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3334
أخبرني الحسين بن حَلِيم (3) المروزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا أبو خَلْدة، عن أبي العاليَةِ، قال: كنت أطوفُ مع ابن عبَّاس بالبيت، فكان يأخذُ بيدي، فيعلِّمُني لَحْنَ الكلام، فقال: يا أبا العاليَة، لا تقل: انصَرَفتُم من الصلاة، ولكن قل: قَضَيتُم الصلاة، فإنَّ الله يقول: ﴿انْصَرَفُوا صَرَفَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ﴾ [التوبة: 127] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3295 - صحيح
ابوالعالیہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے کلام کی باریکیاں سکھانے لگے، انہوں نے فرمایا: اے ابوالعالیہ! یوں نہ کہا کرو کہ تم نماز سے پھر گئے ( «انصَرَفتُم») بلکہ یوں کہا کرو کہ تم نے نماز مکمل کر لی ( «قَضَيتُم») کیونکہ (پھر جانے کے الفاظ اللہ نے منافقین کے لیے استعمال فرمائے ہیں جیسا کہ) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿انْصَرَفُوا صَرَفَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ﴾ [سورة التوبة: 127] وہ پھر گئے تو اللہ نے ان کے دلوں کو پھیر دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3334]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفَزَاري، وعبدان: هو عبد الله عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك، وأبو خلدة: هو خالد بن دينار التميمي، وأبو العالية: هو رفيع بن مِهران.» [ترقيم الرساله 3334] [ترقيم الشركة 3314] [ترقيم العلميه 3295]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں