🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
129. تفسير : ( لولا أن رأى برهان ربه )
آیت“اگر وہ اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتا”کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3363
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مِهْران الأصبهاني، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا إسرائيل، عن خُصَيف، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: عَثَرَ يوسفُ ثلاثَ عَثَراتٍ: حين هَمَّ بها، فسُجِن، وقوله للرجل: اذْكُرْني عند ربك، فلَبِثَ في السجن بِضعَ سنين فأنساه الشيطانُ ذِكرَ ربِّه، وقوله لهم: إنكم لَسارقون (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3323 - هو خبر منكر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا یوسف علیہ السلام تین مرتبہ پھسلے: (1) جب انہوں نے زلیخا کا ارادہ کیا تو قید کر دیئے گئے۔ (2) جب آپ نے (رہائی پانے والے قیدی) آدمی سے کہا تھا: اپنے بادشاہ کے پاس میرا ذکر کرنا، پھر وہ کئی سال جیل میں رہے کیونکہ شیطان نے اس کو یہ بات بھلا دی تھی۔ جب یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کے متعلق کہا تھا۔ اِنَّکُمْ لَسٰرِقُوْنَ (یوسف: 70) بیشک تم چور ہو ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3363]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3363 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده ضعيف، خصيف - وهو ابن عبد الرحمن الجزري - سيئ الحفظ، وقد تفرَّد به، وبه أعلَّه الذهبي في "تلخيصه" وقال: هو خبر منكر. وأخرجه البيهقي في "الزهد" (362) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے؛ خصیف (ابن عبدالرحمن الجزری) سیئ الحفظ (خراب حافظے والا) ہے اور اس نے تفرد کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ذہبی نے "تلخیص" میں اسی وجہ سے علت لگائی ہے اور کہا ہے کہ یہ خبر منکر ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "الزہد" (362) میں ابوعبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الحارث بن أبي أسامة في "مسنده" (716 - زوائده)، ومن طريقه البيهقي في "الزهد" (361) عن يحيى بن أبي بكير، والطبري في "تفسيره" 12/ 213 من طريق يحيى بن أبي زائدة، كلاهما عن إسرائيل، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے حارث بن ابی اسامہ نے "مسند" (716 - زوائد) میں، اور ان کے طریق سے بیہقی نے "الزہد" (361) میں یحییٰ بن ابی بکیر سے، اور طبری نے "تفسیر" (12/ 213) میں یحییٰ بن ابی زائدہ کے طریق سے روایت کیا ہے؛ دونوں اسرائیل سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔
وأخرجه بنحوه ابن أبي حاتم في "تفسيره" 7/ 2140 و 2150 و 2177 من طريق أبي سعيد بن أبي الوضاح، عن خصيف، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اسی کی مثل ابن ابی حاتم نے اپنی "تفسیر" (7/ 2140، 2150، 2177) میں ابو سعید بن ابی الوضاح کے طریق سے، خصیف سے اسی طرح روایت کیا ہے۔