المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
129. تفسير : ( لولا أن رأى برهان ربه )
آیت“اگر وہ اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتا”کی تفسیر
حدیث نمبر: 3364
أخبرني الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا موسى بن مسعود، حدثنا سفيان، عن عُمَارة بن القَعقاع الضَّبِّي، عن إبراهيم، عن الأسوَد، عن عبد الله: ﴿قُضِيَ الْأَمْرُ الَّذِي فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ﴾ [يوسف: 41] ، قال: لمَّا حَكَيا ما رأياه وعَبَرَ يوسفُ ﵇، قال أحدهما: ما رأَيْنا شيئًا، فقال: قُضِيَ الأمرُ الذي فيه تَستَفْتِيان (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس آیت: قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْہِ تَسْتَفْتِیٰنِ (یوسف: 41) ” حکم ہو چکا اس بات کا جس کا تم سوال کرتے تھے “ (کے بارے میں) فرماتے ہیں: جب سیدنا یوسف علیہ السلام نے ان دونوں کی (بیان کردہ) خوابوں کی تعبیر بیان کر دی تو ان میں سے ایک نے کہا: ہم نے تو کچھ دیکھا ہی نہیں (بلکہ ہم نے تو سراسر جھوٹ بولا تھا) تو سیدنا یوسف علیہ السلام نے فرمایا: تم لوگوں نے جو پوچھا تھا اس کے متعلق فیصلہ کر دیا گیا ہے (خواب تم نے دیکھا تھا یا نہیں) ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3364]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3364 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل موسى بن مسعود: وهو أبو حذيفة النهدي. سفيان: هو الثوري، وإبراهيم: هو ابن يزيد النخعي، والأسود: هو ابن يزيد النخعي خال إبراهيم.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ خبر صحیح ہے اور موسیٰ بن مسعود (ابو حذیفہ نہدی) کی وجہ سے اس کی سند حسن ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: سفیان: یہ ثوری ہیں، ابراہیم: یہ ابن یزید نخعی ہیں، اور اسود: یہ ابن یزید نخعی (ابراہیم کے ماموں) ہیں۔
وهو عند أبي حذيفة النهدي في "تفسير سفيان" (405)، لكن بإسقاط الواسطة بين إبراهيم وابن مسعود، وهكذا رواه عن سفيان عبدُ الرحمن بن مهدي ووكيع عند الطبري 12/ 221.
📖 حوالہ / مصدر: یہ ابو حذیفہ نہدی کے پاس "تفسیر سفیان" (405) میں ہے، لیکن اس میں ابراہیم اور ابن مسعود کے درمیان واسطہ گرا ہوا ہے۔ اسی طرح اسے سفیان سے عبدالرحمن بن مہدی اور وکیع نے طبری (12/ 221) کے ہاں روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (8395) من طريق محمد بن فضيل عن عمارة عن إبراهيم، فسمى الواسطة بينه وبين ابن مسعودٍ علقمةَ: وهو ابن قيس النخعي من أخوال إبراهيم. والإسناد صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اور یہ آگے نمبر (8395) پر محمد بن فضیل عن عمارہ عن ابراہیم کے طریق سے آئے گا، جہاں انہوں نے اپنے اور ابن مسعود کے درمیان واسطہ "علقمہ" (ابن قیس نخعی، ابراہیم کے ماموں) کا نام لیا ہے۔ اور یہ سند صحیح ہے۔
وأخرجه ابن أبي حاتم 7/ 2148 من طريق عمرو بن مرة، عن أبي عبيدة، عن أبيه عبد الله بن مسعود.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی حاتم (7/ 2148) نے عمرو بن مرہ کے طریق سے، ابوعبیدہ سے اور انہوں نے اپنے والد عبداللہ بن مسعود سے روایت کیا ہے۔