🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
135. وفاة فتى باستماع آية : ( قوا أنفسكم ، وأهليكم نارا )
ایک نوجوان کی آیت“اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ”سن کر وفات کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3379
أخبرني الحسن بن حَلِيم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، أخبرنا صفوان بن عمرو، عن عبد الله بن بُسْر، عن أبي أُمامة، عن النبي ﷺ في قوله ﷿: ﴿وَيُسْقَى مِنْ مَاءٍ صَدِيدٍ (16) يَتَجَرَّعُهُ﴾ [إبراهيم: 16، 17] ، قال:"يُقرَّبُ إليه فيتَكرَّهُه، فإذا أدنيَ منه شَوَى وجهَه ووَقَعَ فروةُ رأسِه، فإذا شَرِبَ قَطَّعَ أمعاءَه حتى يخرجَ من دُبُرِه" يقول الله: ﴿وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ﴾ [محمد: 15] ، ويقول الله ﷿: ﴿وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ﴾ [الكهف: 29] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3339 - على شرط مسلم
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد: وَ یُسْقٰی مِنْ مَّآئٍ صَدِیْدٍ یَّتَجَرَّعُہٗ) (ابراہیم: 16-17) اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا، بہ مشکل اس کا تھوڑا تھوڑا گھونٹ لے گا ۔ کے متعلق فرمایا: وہ پانی اس کو پیش کیا جائے گا تو وہ اس سے ناپسندیدگی کا اظہار کرے گا۔ جب وہ اس کو اپنے قریب کرے گا تو اس کا چہرہ بھسم ہو جائے گا اور اس کے سر کی کھال بالوں سمیت جھڑ جائے گی اور جب وہ پئے گا تو اس کی انتڑیاں جھلس جائیں گی اور اس کے پاخانہ کے مقام سے خارج ہو جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (وَ سُقُوْا مَآئً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآئَھُمْ) (محمد صلی اللہ علیہ وسلم : 15) اور انہیں کھولتا پانی پلایا جائے گا کہ آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا ۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد: (وَ یُسْقٰی مِنْ مَّآئٍ صَدِیْدٍ یَّتَجَرَّعُہٗ) (ابراہیم: 16-17) اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا، بہ مشکل اس کا تھوڑا تھوڑا گھونٹ لے گا۔ کے متعلق فرمایا: وہ پانی اس کو پیش کیا جائے گا تو وہ اس سے ناپسندیدگی کا اظہار کرے گا۔ جب وہ اس کو اپنے قریب کرے گا تو اس کا چہرہ بھسم ہوجائے گا اور اس کے سر کی کھال بالوں سمیت جھڑ جائے گی اور جب وہ پئے گا تو اس کی انتڑیاں جھلس جائیں گی اور اس کے پاخانہ کے مقام سے خارج ہوجائیں گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (وَ سُقُوْا مَآئً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآئَھُمْ) (محمد صلی اللہ علیہ وسلم : 15) اور انہیں کھولتا پانی پلایا جائے گا کہ آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (وَاِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآئٍ کَالْمُھْلِ یَشْوِی الْوُجُوْہَ بِئْسَ الشَّرَابُ) (الکھف: 29) اور اگر پانی کے لیے فریاد کریں تو ان کی فریاد رسی ہو گی اس پانی سے کہ چرخ دینے (کھولتے ہوئے) دھات کی طرح ہے کہ ان کے منہ بھون دے گا کیا ہی برا پینا ہے ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3379]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3379 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) رجاله ثقات معروفون غير عبد الله بن بُسر، فقد اختُلف في اسمه على عبد الله بن المبارك هل هو عبد الله مكبَّرًا أم عبيد الله مصغَّرًا، واختُلف في مَن هو، وكل ذلك مبيَّن في تعليقنا على "مسند أحمد".
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے راوی ثقہ اور معروف ہیں سوائے عبداللہ بن بسر کے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ان کے نام کے بارے میں عبداللہ بن مبارک پر اختلاف ہوا ہے کہ آیا یہ "عبداللہ" (مکبر) ہے یا "عبیداللہ" (مصغر)، اور یہ بھی اختلاف ہے کہ یہ کون ہے۔ یہ سب تفصیل "مسند احمد" پر ہمارے حاشیے میں بیان ہے۔
أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفَزَاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك، وأبو أمامة: هو صُدَي بن عجلان الباهلي.
📝 نوٹ / توضیح: (سند میں موجود) ابو الموجِّہ: یہ محمد بن عمرو فزاری ہیں، عبدان: یہ عبداللہ بن عثمان مروزی ہیں، عبداللہ: یہ ابن مبارک ہیں، اور ابو امامہ: یہ صُدی بن عجلان باہلی ہیں۔
وأخرجه أحمد 36/ (22285)، والترمذي (2583)، والنسائي (11199) من طريقين عن عبد الله بن المبارك، بهذا الإسناد. وسيأتي برقم (3433) و (3746).
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (36/ 22285)، ترمذی (2583) اور نسائی (11199) نے عبداللہ بن مبارک سے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اور یہ آگے رقم (3433) اور (3746) پر آئے گا۔