🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

135. وَفَاةُ فَتًى بِاسْتِمَاعِ آيَةِ: (قُوا أَنْفُسَكُمْ، وَأَهْلِيكُمْ نَارًا)
ایک نوجوان کی آیت“اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ”سن کر وفات کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3378
أخبرني الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن شاذان الجَوْهَري، حدثنا سعيد بن سليمان الواسطي، حدثنا محمد بن يزيد بن خُنَيس، عن عبد العزيز بن أبي روَّاد، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: لما أَنزل الله ﷿ على نبيِّه ﷺ ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا﴾ [التحريم: 6] ، تَلَاها رسولُ الله ﷺ على أصحابه ذاتَ ليلة - أو قال يوم - فخَرَّ فتًى مَغشِيًّا عليه، فَوَضَعَ النبيُّ ﷺ يدَه على فؤادِه فإذا هو يَتحرَّك، فقال:"يا فتى، قل: لا إلهَ إلَّا الله" فقالها، فبشَّرَه بالجنة، فقال أصحابه: يا رسولَ الله، أَمِنْ بينِنا؟ فقال ﷺ:"أمَا سمعتُم قول الله ﷿: ﴿ذَلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِي وَخَافَ وَعِيدِ﴾ [إبراهيم: 14] " (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر یہ آیت اُتاری: یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا قُوْآ اَنْفُسَکُمْ وَ اَھْلِیْکُمْ نَارًا (التحریم: 6) اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات یا (شاید فرمایا) ایک دن اپنے صحابہ کو اس کی تلاوت سنائی۔ ایک نوجوان پر غشی طاری ہوئی اور وہ گر پڑا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دل پر ہاتھ رکھا تو وہ دھڑک رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے نوجوان! پڑھو لا الٰہ الّا اللّٰہ اس نے فوراً کلمہ شریف پڑھ لیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جنت کی بشارت دی، آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے لیے بھی یہی حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا فرمان نہیں سن رکھا (اس نے فرمایا ہے): ذٰلِکَ لِمَنْ خَافاَا مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ (ابراہیم: 14) یہ اس کے لیے ہے جو میرے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اور میں نے جو عذاب کا حکم سنایا ہے، اس سے خوف کرے ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3378]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3379
أخبرني الحسن بن حَلِيم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، أخبرنا صفوان بن عمرو، عن عبد الله بن بُسْر، عن أبي أُمامة، عن النبي ﷺ في قوله ﷿: ﴿وَيُسْقَى مِنْ مَاءٍ صَدِيدٍ (16) يَتَجَرَّعُهُ﴾ [إبراهيم: 16، 17] ، قال:"يُقرَّبُ إليه فيتَكرَّهُه، فإذا أدنيَ منه شَوَى وجهَه ووَقَعَ فروةُ رأسِه، فإذا شَرِبَ قَطَّعَ أمعاءَه حتى يخرجَ من دُبُرِه" يقول الله: ﴿وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ﴾ [محمد: 15] ، ويقول الله ﷿: ﴿وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ﴾ [الكهف: 29] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3339 - على شرط مسلم
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد: وَ یُسْقٰی مِنْ مَّآئٍ صَدِیْدٍ یَّتَجَرَّعُہٗ) (ابراہیم: 16-17) اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا، بہ مشکل اس کا تھوڑا تھوڑا گھونٹ لے گا ۔ کے متعلق فرمایا: وہ پانی اس کو پیش کیا جائے گا تو وہ اس سے ناپسندیدگی کا اظہار کرے گا۔ جب وہ اس کو اپنے قریب کرے گا تو اس کا چہرہ بھسم ہو جائے گا اور اس کے سر کی کھال بالوں سمیت جھڑ جائے گی اور جب وہ پئے گا تو اس کی انتڑیاں جھلس جائیں گی اور اس کے پاخانہ کے مقام سے خارج ہو جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (وَ سُقُوْا مَآئً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآئَھُمْ) (محمد صلی اللہ علیہ وسلم : 15) اور انہیں کھولتا پانی پلایا جائے گا کہ آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا ۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد: (وَ یُسْقٰی مِنْ مَّآئٍ صَدِیْدٍ یَّتَجَرَّعُہٗ) (ابراہیم: 16-17) اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا، بہ مشکل اس کا تھوڑا تھوڑا گھونٹ لے گا۔ کے متعلق فرمایا: وہ پانی اس کو پیش کیا جائے گا تو وہ اس سے ناپسندیدگی کا اظہار کرے گا۔ جب وہ اس کو اپنے قریب کرے گا تو اس کا چہرہ بھسم ہوجائے گا اور اس کے سر کی کھال بالوں سمیت جھڑ جائے گی اور جب وہ پئے گا تو اس کی انتڑیاں جھلس جائیں گی اور اس کے پاخانہ کے مقام سے خارج ہوجائیں گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (وَ سُقُوْا مَآئً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآئَھُمْ) (محمد صلی اللہ علیہ وسلم : 15) اور انہیں کھولتا پانی پلایا جائے گا کہ آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (وَاِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآئٍ کَالْمُھْلِ یَشْوِی الْوُجُوْہَ بِئْسَ الشَّرَابُ) (الکھف: 29) اور اگر پانی کے لیے فریاد کریں تو ان کی فریاد رسی ہو گی اس پانی سے کہ چرخ دینے (کھولتے ہوئے) دھات کی طرح ہے کہ ان کے منہ بھون دے گا کیا ہی برا پینا ہے ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3379]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3380
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا محمد بن أحمد بن أَنس القُرشي، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا عبد الله بن واقد حدثني محمد بن مالك، عن البَرَاء بن عازِبٍ: ﴿تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهُ سَلَامٌ﴾ [الأحزاب: 44] ، قال: يومَ يَلقَونَ مَلَكَ الموت، ليس من مؤمنٍ يَقبِضُ رُوحَه إلَّا سَلَّم عليه (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3340 - عبد الله بن واقد قال ابن عدي مظلم الحديث ومحمد بن مالك قال ابن حبان لا يحتج به
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد: تَحِیَّتُھُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَہٗ سَلٰام (الاحزاب: 44) ان کے لیے ملتے وقت کی دعا سلام ہے ۔ کے متعلق فرمایا: ملک الموت جس مومن کی بھی روح قبض کرنے آتے ہیں، پہلے اس کو سلام کہتے ہیں (بعد میں روح قبض کرتے ہیں)۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3380]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3381
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو يحيى بن أبي مَسَرَّة، حدثنا العلاء بن عبد الجبار العطَّار، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن شعيب بن الحَبْحاب، عن أنس بن مالك قال: أُتيَ رسولُ الله ﷺ بقِنَاع من بُسْر، فقرأ: مَثَلُ كلمةٍ طيبةٍ كشجرةٍ طيبةٍ (1) ، فقال:"هي النخلةُ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3341 - على شرط مسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تازہ کھجوروں کے باغ میں تشریف لائے اور یہ آیت پڑھی: مَثَلًا کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ (ابراہیم: 24) پاکیزہ بات کی مثال جیسے پاکیزہ درخت ۔ اور فرمایا: (اس شجر سے مراد) کھجور کا درخت ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3381]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں