🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
139. شرح معنى : ( ونزعنا ما فى صدورهم من غل ) الآية
آیت“اور ہم ان کے دلوں میں جو کینہ ہوگا نکال دیں گے”کے معنی کی وضاحت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3388
حدثنا أبو العبَّاس أحمد بن هارون الفقيه إملاءً، حدثنا أحمد بن محمد بن نَصْر، حدثنا أبو نُعَيم، حدثنا أبان بن عبد الله البَجَلي، حدثني نُعيم بن أبي هند، حدثني رِبْعيُّ بن حِرَاش قال: إني لعندَ عليٍّ جالسٌ، إذ جَاءَه ابنُ طَلْحةَ فَسَلَّمَ على عليٍّ، فرَحَّبَ به، فقال: تُرحِّبُ بي يا أمير المؤمنين وقد قتلتَ والدي وأخذتَ مالي؟! قال: أمّا مالُك، فهو ذا معزولٌ في بيت المال، فاغْدُ إلى مالك فخُذْه، وأمّا قولُك: قتلتَ أَبي، فإني أرجو أن أكونَ أنا وأبوك من الذين قال الله ﷿: ﴿وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ﴾ [الحجر: 47] ، فقال رجل من هَمْدانَ: اللهُ أعدلُ من ذلك، فصاحَ عليه عليٌّ صيحةً تَداعَى لها (1) القَصرُ، قال: فمَن إذًا إن لم نكن نحنُ أولئك؟! (2) صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3348 - صحيح
سیدنا ربعی بن حراش رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں ایک دفعہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کے پاس طلحہ کا بیٹا آیا اور اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سلام کیا، آپ نے بھی اس کو مرحبا کہا، اس نے کہا: اے امیرالمومنین رضی اللہ عنہ! آپ مجھے مرحبا (کس منہ سے) کہہ رہے ہیں؟ حالانکہ آپ نے میرے والد کو قتل کیا اور میرا مال غصب کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: جہاں تک تیرے مال کا تعلق ہے تو وہ بیت المال میں بالکل الگ رکھا ہوا ہے، صبح جا کر وہاں سے اپنا مال لے لینا اور جہاں تک آپ کے والد کے قتل کا تعلق ہے تو میں امید رکھتا ہوں کہ تیرا باپ اور میں ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْکُمْ وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِیْنَ (الحجر: 24) اور ہم نے ان کے سینوں میں جو کچھ کہنے تھے سب کھینچ لیے آپس میں بھائی بھائی ہیں تختوں پر رو برو بیٹھے ۔ تو ہمدان کے ایک آدمی نے کہا: اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ عدل کرنے والا ہے۔ اس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ اتنی گرج دار آواز میں بولے کہ پورا محل گونج اٹھا (آپ نے فرمایا: جب ان لوگوں میں ہمارا شمار نہیں ہے تو پھر کوئی دوسرا کون ہو سکتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3388]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3388 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في النسخ الخطية: له، والمثبت من المطبوع و"الطبقات"، وهو أوجهُ.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں "لہ" ہے، اور جو ہم نے (متن میں) ثابت کیا ہے وہ مطبوعہ اور "الطبقات" سے لیا گیا ہے، اور وہی زیادہ درست ہے۔
(2) إسناده جيد من أجل أبان البجلي، فهو صدوق، وباقي رجاله ثقات. أبو نعيم: هو الفضل بن دكين.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ابان البجلی کی وجہ سے عمدہ (جید) ہے، وہ صدوق ہیں، اور باقی راوی ثقہ ہیں۔ 📝 نوٹ / توضیح: ابونعیم: یہ فضل بن دکین ہیں۔
وأخرجه ابن سعد في "الطبقات" 3/ 205، ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 25/ 118 عن الفضل بن دكين، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے "الطبقات" (3/ 205) میں، اور ان کے طریق سے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (25/ 118) میں فضل بن دکین سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه مختصرًا الطبري في "تفسيره" 14/ 37، وابن عساكر 25/ 118 من طريق وكيع، عن أبان البجلي، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مختصراً طبری نے "تفسیر" (14/ 37) اور ابن عساکر (25/ 118) نے وکیع کے طریق سے، ابان بجلی سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
وخالف جابرُ بن يزيد بن رفاعة فرواه بنحوه مختصرًا عند الطبراني في "الأوسط" (827) عن نعيم بن أبي هند عن الحارث الأعور الهمْداني قال: كنت عند عليّ … فذكر الحارثَ مكان ربعيّ، وأبان البجلي أشهر روايةً من جابر.
🔍 فنی نکتہ / علّت: جابر بن یزید بن رفاعہ نے مخالفت کی ہے اور اسے طبرانی کی "الاوسط" (827) میں نعیم بن ابی ہند سے اور انہوں نے حارث اعور ہمدانی سے روایت کیا کہ "میں علی کے پاس تھا..." پس انہوں نے "ربعی" کی جگہ "حارث" کا ذکر کیا ہے۔ اور ابان بجلی جابر سے زیادہ مشہور راوی ہیں۔
وسيأتي بنحوه عند المصنف برقم (5713) من طريق أبي حبيبة مولى طلحة قال: دخلت على عليٍّ مع عمر بن طلحة.
📖 حوالہ / مصدر: اور یہ مصنف کے ہاں رقم (5713) پر ابوحبیبہ مولیٰ طلحہ کے طریق سے اسی کی مثل آئے گا، انہوں نے کہا: میں عمر بن طلحہ کے ساتھ علی کے پاس داخل ہوا۔