🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
139. شرح معنى : ( ونزعنا ما فى صدورهم من غل ) الآية
آیت“اور ہم ان کے دلوں میں جو کینہ ہوگا نکال دیں گے”کے معنی کی وضاحت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3389
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا معاذ بن هشام صاحب الدَّستُوائي، حدثني أَبي، عن قَتَادة، عن أبي المتوكِّل، عن أبي سعيد، عن رسول الله ﷺ قال:"إذا خَلَصَ المؤمنون من النار حُبِسوا بقَنطَرةٍ بين الجنة والنار، يَتَقاصُّون مظالمَ كانت بينهم في الدنيا، حتى إذا نُقُّوا وهُذِّبوا أُذِنَ لهم يَدخُلون الجنةَ، والذي نفسُ محمدٍ بيده لَأحدُهم أَهدى بمَسكَنِه في الجنة من أحدِكم بمنزلِه في الدنيا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! لأنَّ مَعمَر بن راشدٍ رواه عن قتادة عن رجل عن أبي سعيد (2) ، وليس هذا بعِلَّة، فإنَّ هشامًا الدَّستُوائيَّ أعلمُ بحديث قتادة من غيرِه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3349 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جب مومنوں کو جہنم سے نکالا جائے گا تو ان کو جنت اور دوزخ کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا یہاں پر یہ لوگ اپنے دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا قصاص لیں گے حتیٰ کہ جب بالکل صاف ستھرے اور شستہ ہو جائیں گے تو ان کو جنت میں داخل ہونے کی اجازت مل جائے گی اور اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ قدرت میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے اتنا تو تم دنیا میں اپنے گھر راستہ نہیں جانتے، جتنی واقفیت تمہیں اپنے جنت کے مکان کی ہو گی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ کیونکہ معمر بن راشد نے اس کو قتادہ کے بعد ایک آدمی کے واسطے سے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور یہ کوئی علت نہیں ہے کیونکہ ہشام الدستوائی دوسروں کی بہ نسبت قتادہ کی روایات زیادہ جانتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3389]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3389 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح أبو المتوكل: هو علي بن داود - ويقال: دُؤاد - الناجيُّ.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: (راوی) ابو المتوکل: یہ علی بن داود (یا دُؤاد) الناجی ہیں۔
وأخرجه البخاري (2440)، وابن حبان (7434) من طريق إسحاق بن إبراهيم - وهو ابن راهويه - بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (2440) اور ابن حبان (7434) نے اسحاق بن ابراہیم (ابن راہویہ) کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: لہٰذا حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کا ذہول (بھول) ہے۔
وأخرجه مختصرًا أحمد 18/ (11548) من طريق معمر، عن قتادة، عن أبي المتوكل، به. وسيأتي عند المصنف برقم (8921) من طريق سعيد بن أبي عروبة عن قتادة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مختصراً احمد (18/ 11548) نے معمر کے طریق سے، قتادہ سے اور انہوں نے ابو المتوکل سے روایت کیا ہے۔ اور یہ مصنف کے ہاں رقم (8921) پر سعید بن ابی عروبہ عن قتادہ کے طریق سے آئے گا۔
قوله: "إذا خَلَصَ المؤمنون" أي: نَجَوْا من السقوط في النار بعدما جازوا على الصراط.
📝 نوٹ / توضیح: قول: "جب مومن نجات پا جائیں گے"، یعنی پل صراط سے گزرنے کے بعد آگ میں گرنے سے بچ جائیں گے۔
والقنطرة: الجِسر.
📝 نوٹ / توضیح: "القنطرة": پل۔
(2) رواية معمر هذه التي أشار إليها المصنف لم نقف عليها، لكن رواه عنه عبدُ الرزاق في "تفسيره" 2/ 221 - 222 ومحمدُ بن ثور عند الطبري 26/ 44 بإسقاط الرجل المبهم، إلَّا أن ابن ثور وقفه على أبي سعيد.
🔍 فنی نکتہ / علّت: معمر کی یہ روایت جس کی طرف مصنف نے اشارہ کیا ہے ہمیں نہیں ملی، لیکن اسے ان سے عبدالرزاق نے "تفسیر" (2/ 221-222) میں اور محمد بن ثور نے طبری (26/ 44) میں مبہم آدمی کا واسطہ گرا کر روایت کیا ہے۔ البتہ ابن ثور نے اسے ابوسعید پر موقوف کیا ہے۔
تنبيه: وقع في طبعة الرشد من "تفسير عبد الرزاق" مكان قتادة: الكلبي، وهو خطأ ناتج عن انتقال نظر من سند الخبر قبله، وجاء على الصواب في طبعة دار الكتب العلمية.
📝 نوٹ / توضیح: تنبیہ: "تفسیر عبدالرزاق" کے رشد ایڈیشن میں قتادہ کی جگہ "الکلبی" واقع ہوا ہے، جو کہ پچھلی خبر کی سند سے نظر منتقل ہونے کی وجہ سے غلطی ہے۔ دارالکتب العلمیہ کے ایڈیشن میں یہ درست آیا ہے۔