🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
139. شرح معنى : ( ونزعنا ما فى صدورهم من غل ) الآية
آیت“اور ہم ان کے دلوں میں جو کینہ ہوگا نکال دیں گے”کے معنی کی وضاحت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3390
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِيُّ بن خُزَيمة، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا سفيان، حدثنا سِمَاك بن حَرْب، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبَّاس ﴿إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً﴾ الحجر: 77] ، قال: أمَا تَرَى الرجلَ يُرسِل بخاتَمِه إلى أهله فيقول: هاتُوا كذا وكذا، فإذا رأَوه عَرَفُوا أنه حقٌّ (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3350 - على شرط مسلم
سیدنا (عبداللہ) بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے فرمان: اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً (الحجر: 77) بے شک اس میں نشانیاں ہیں کے متعلق فرماتے ہیں: کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ایک آدمی اپنی انگوٹھی اپنے گھر والوں کی طرف بھیجتا ہے اور کہتا ہے اس کو فلاں فلاں طریقے سے لانا، جب وہ اس کو دیکھتے ہیں تو سمجھ جاتے ہیں کہ یہ سچ کہہ رہا ہے۔ ٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3390]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3390 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده حسن من أجل سماك بن حرب. أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين، وسفيان: هو الثوري. وأخرجه الطبري في "تفسيره" 14/ 47، وكذا ابن أبي حاتم 8/ 2751 من طريق أبي أسامة، عن سفيان الثوري، بهذا الإسناد - وزاد فيه قبل قوله "أما ترى الرجل": علامة؛ يعني في تفسير قوله: "لآيةً".
⚖️ درجۂ حدیث: سماک بن حرب کی وجہ سے اس کی سند حسن ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ابونعیم: یہ فضل بن دکین ہیں، اور سفیان: یہ ثوری ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے "تفسیر" (14/ 47) اور ابن ابی حاتم (8/ 2751) نے ابو اسامہ کے طریق سے، سفیان ثوری سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: اور اس میں "کیا تم آدمی کو نہیں دیکھتے" سے پہلے "علامہ" (نشانی) کا لفظ بڑھایا ہے، یعنی "لآیۃ" کی تفسیر میں۔