🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
145. قصة الحجر المدري حين أجبر على لعنة على ثم لعن آمره بحسن القول
حجر مدری کا واقعہ جب انہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر لعنت پر مجبور کیا گیا تو انہوں نے آمر پر حسنِ کلام کے ساتھ لعنت کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3406
حدثنا أبو أحمد بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيْرَفي بمَرْوٍ من أصل كتابه، حدثنا أبو محمد عُبيد بن قُنفُذ البزَّار، حدثنا يحيى بن عبد الحميد الحِمَّاني، حدثنا سفيان بن عُيَينة، عن عبد الله بن طاووس، عن أبيه قال: كان حُجْرُ بن قيس المَدَريُّ من المختصِّين بخِدْمة أمير المؤمنين علي بن أبي طالب، فقال له عليٌّ يومًا: يا حُجْر، إنك تُقامُ بعدي فتُؤمرُ بلَعْني فالعَنِّي، ولا تَتبرَّأْ مني. قال طاووس: فرأيتُ حُجْرًا المَدَريَّ وقد أقامه أحمدُ بن إبراهيم خليفةُ بني أُميَّة في الجامع ووُكِّلَ به ليَلعَنَ عليًّا أو يُقتَل، فقال حُجْر: أَمَا إنَّ الأميرَ أحمد بن إبراهيم أَمَرني أن ألعَنَ عليًّا فالعَنُوه، لَعَنَه الله، فقال طاووس: فلقد أعمى الله قلوبَهم حتى لم يَقِفْ أحدٌ منهم على ما قال (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3366 - يحيى الحماني ضعيف
سیدنا طاؤس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حجر بن قیس المددی امیرالمومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے خاص خدمت گزاروں میں سے ہیں، ایک دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میرے بعد تجھے کھڑا کیا جائے گا اور تجھے مجھ پر لعنت کرنے پر مجبور کیا جائے گا تو تم مجھ پر لعنت کر لینا لیکن مجھ سے برات کا اظہار نہیں کرنا۔ ٭٭ سیدنا طاؤس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے حجر المدری کو دیکھا کہ بنوامیہ کے خلیفہ احمد بن ابراہیم نے ان کو جامع مسجد میں کھڑا کیا اور ایک آدمی کو ان پر مسلط کر دیا کہ یہ شخص یا تو علی کو گالیاں دے ورنہ اس کی گردن مار دی جائے۔ حجر کھڑے ہوئے اور بولے: امیراحمد بن ابراہیم نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر لعنت کروں تو تم اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت کرو۔ سیدنا طاؤس کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو ایسا اندھا کر دیا کہ ان میں سے ایک آدمی بھی یہ سمجھ ہی نہ سکا کہ حجر ان کو کیا کہہ گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3406]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3406 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف، قال الحافظ الذهبي في "تلخيصه": يحيى ضعيف سمعه منه عبيد بن قنفذ البزار ولا أدري من هو. وقال الحافظ ابن حجر في "لسان الميزان" 5/ 358: عبيد بن قنفذ البزار مجهول روى عنه يحيى الحمّاني خبرًا باطلًا، والحمّاني مع ضعفه لا يحتمل ذلك؛ ثم ساق له هذا الخبر.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: حافظ ذہبی نے "تلخیص" میں فرمایا: یحییٰ ضعیف ہے، اس سے عبید بن قنفذ البزار نے سنا ہے اور میں نہیں جانتا وہ کون ہے۔ حافظ ابن حجر نے "لسان المیزان" (5/ 358) میں فرمایا: عبید بن قنفذ البزار مجہول ہے، اس سے یحییٰ الحمانی نے ایک باطل خبر روایت کی ہے، اور حمانی اپنے ضعف کے باوجود اس کا متحمل نہیں ہو سکتا؛ پھر انہوں نے یہ خبر ذکر کی۔
وقد روي نحو هذه القصة عند ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 56/ 310 بإسنادين آخرين فيهما ضعف، والأمير فيهما هو محمد بن يوسف الثقفي أخو الحجّاج وكان أميرًا على اليمن.
📖 حوالہ / مصدر: اس قصے کی مثل ابن عساکر کی "تاریخ دمشق" (56/ 310) میں دو اور سندوں سے مروی ہے جن میں ضعف ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ان میں امیر "محمد بن یوسف الثقفی" ہے جو حجاج کا بھائی تھا اور یمن کا امیر تھا۔