🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
145. قصة الحجر المدري حين أجبر على لعنة على ثم لعن آمره بحسن القول
حجر مدری کا واقعہ جب انہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر لعنت پر مجبور کیا گیا تو انہوں نے آمر پر حسنِ کلام کے ساتھ لعنت کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3407
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مِهْران، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا سفيان. وأخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا الثَّوْري، عن فِراس، عن الشَّعْبي، عن مسروق قال: قرأتُ عند عبد الله بن مسعود: ﴿إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا﴾ [النحل: 120] ، قال: فقال ابنُ مسعود: إنَّ معاذًا كان أُمةً قانتًا، قال: فأعادُوا عليه فأعادَ، ثم قال: أتدرُونَ مَا الأُمَّة؟ الأُمَّةُ الذي يُعلِّم الناسَ الخيرَ، والقانتُ الذي يُطِيع اللهَ ورسولَه (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3367 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا مسروق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس پڑھا: اِنَّ اِبْرَاھِیْمَ کَانَ اُمَّۃً قَانِتًا لِّلّٰہِ (النحل: 120) بیشک ابراہیم علیہ السلام ایک امام تھا اللہ کا فرمانبردار۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: بے شک سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ امۃ قانتا تھے (راوی) کہتے ہیں: لوگوں نے دوبارہ آیت کی تلاوت کی تو آپ نے دوبارہ وہی بات دہرائی۔ پھر آپ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ امۃ سے کیا مراد ہے؟ اس سے مراد وہ شخص ہے جو لوگوں کو بھلائی سکھائے اور قانت وہ ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3407]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3407 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين، وإسحاق: هو ابن راهويه، وفراس: هو ابن يحيى الهمداني.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ابونعیم: یہ فضل بن دکین ہیں، اسحاق: یہ ابن راہویہ ہیں، اور فراس: یہ ابن یحییٰ الہمدانی ہیں۔
وأخرجه من طريق سفيان الثوري: عبد الرزاق في "تفسيره" 1/ 360 - 361، وابن سعد في "الطبقات" 2/ 301، وأبو زرعة الدمشقي في "تاريخه" 1/ 648، والطبري في "تفسيره" 14/ 191، والطبراني (9943)، وأبو نعيم الأصبهاني في "مسانيد فراس" (20).
📖 حوالہ / مصدر: اسے سفیان ثوری کے طریق سے عبدالرزاق نے "تفسیر" (1/ 360-361)، ابن سعد نے "الطبقات" (2/ 301)، ابوزرعہ دمشقی نے "تاریخ" (1/ 648)، طبری نے "تفسیر" (14/ 191)، طبرانی (9943) اور ابونعیم اصبہانی نے "مسانید فراس" (20) میں روایت کیا ہے۔
وسيأتي عند المصنف برقم (5270) من طريق شعبة عن فراس. وانظر (5269).
📖 حوالہ / مصدر: یہ مصنف کے ہاں رقم (5270) پر شعبہ عن فراس کے طریق سے آئے گا۔ اور (5269) دیکھیں۔
وأخرجه ابن سعد 2/ 301، والطبراني 14/ 191، والطبراني (9948) و (9950) و 20/ (47)، وأبو نعيم في "الحلية" 1/ 230، والدينوري في "المجالسة" (1676)، والبيهقي في "المدخل إلى السنن" (389)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 58/ 418 و 419 من طرق عن ابن مسعود؛ منها طريق للشعبي عنه منقطعًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد (2/ 301)، طبری (14/ 191)، طبرانی (9948، 9950، 20/ 47)، ابونعیم نے "الحلیہ" (1/ 230)، دینوری نے "المجالسۃ" (1676)، بیہقی نے "المدخل الی السنن" (389) اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (58/ 418، 419) میں ابن مسعود سے مختلف طرق سے روایت کیا ہے؛ جن میں سے شعبی کا ان سے طریق "منقطع" ہے۔
وانظر (3415).
📖 حوالہ / مصدر: اور (3415) دیکھیں۔