المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
150. أسلم نفر من الجن وتمسك الإنسيون بعبادتهم
کچھ جنات اسلام لے آئے جبکہ انسان اپنی عبادت پر قائم رہے
حدیث نمبر: 3418
أخبرنا محمد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزَة، حدثنا قَبِيصة بن عُقْبة، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن أبي مَعْمَر، عن عبد الله قال: كان نَفَرٌ من الإنس يَعبُدون نفرًا من الجنِّ، فأسلَمَ النفرُ من الجنِّ وتَمسَّك الإنسِيُّون بعبادتِهم، فأَنزل الله ﷿: ﴿قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِهِ فَلَا يَمْلِكُونَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَلَا تَحْوِيلًا (56) أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُ إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُورًا (57) ﴾ [الإسراء: 56، 57] كلاهما بالياءِ (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3378 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3378 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کچھ انسان، جنات کے ایک گروہ کی عبادت کیا کرتے تھے پھر جنات کا وہ گروہ مسلمان ہو گیا جبکہ وہ انسان بدستور ان جنات کی عبادت کرتے رہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرما دیں: قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ فَلَا یَمْلِکُوْنَ کَشْفَ الضُّرِّ عَنْکُمْ وَ لَا تَحْوِیْلًا (الاسراء: 56) ” تم فرماؤ پکارو انہیں جن کو اللہ کے سوا گمان کرتے ہو تو وہ اختیار نہیں رکھتے تم سے تکلیف دور کرنے اور نہ پھیر دینے کا “۔ (،)، اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰی رَبِّھِمُ الْوَسِیْلَۃَ (الاسراء: 57) ” وہ مقبول بندے جنہیں یہ کافر پوجتے ہیں وہ آپ ہی اپنے رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں “۔ دونوں جگہ پر (یدعون اور یبتغون) یاء کے ساتھ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3418]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3418 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) هكذا في "تلخيص الذهبي" بالمثناة من تحت، وفي (ب): بالباء، وهو خطأ، وفي (ز) و (ص) و (ع): بالتاء، بالمثنّاة من فوق، وقد نُقل عن ابن مسعود القراءة في قوله: (تدعون) بتاء الخطاب كما في "البحر المحيط" لأبي حيان 6/ 51. والخبر فإسناده صحيح. سفيان: هو الثوري، والأعمش: هو سليمان بن مِهران، وإبراهيم: هو ابن يزيد النَّخَعي، وأبو معمر: هو عبد الله بن سَخْبرة، وعبد الله: هو ابن مسعود ﵁.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (3) ذہبی کی "تلخیص" میں اسی طرح (یاء کے ساتھ) یعنی نیچے دو نقطوں کے ساتھ ہے، نسخہ (ب) میں بھی "باء" کے ساتھ ہے جو کہ غلطی ہے، جبکہ (ز)، (ص) اور (ع) میں "تاء" (اوپر دو نقطوں) کے ساتھ ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے قول باری تعالیٰ (تدعون) میں "تائے خطاب" کے ساتھ قراءت منقول ہے، جیسا کہ ابو حیان کی "البحر المحیط" (جلد 6، صفحہ 51) میں ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: بہرحال یہ روایت اپنی سند کے لحاظ سے "صحیح" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سفیان سے مراد سفیان الثوری ہیں، اعمش سے مراد سلیمان بن مہران ہیں، ابراہیم سے مراد ابن یزید النخعی ہیں، ابو معمر سے مراد عبد اللہ بن سخبرہ ہیں اور عبد اللہ سے مراد ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔
وأخرجه - دون النص على القراءة - البخاري (4714)، ومسلم (3030) (29)، والنسائي (11223) و (11225) من طرق عن سفيان الثوري، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهول منه.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج - قراءت کی صراحت کے بغیر - بخاری (4714)، مسلم (3030/ 29)، اور نسائی (11223) و (11225) نے سفیان الثوری سے مختلف طرق کے ساتھ اسی سند سے کی ہے۔ 📌 اہم نکتہ: لہٰذا حاکم کا اسے (بطور مستدرک) ذکر کرنا ان کا "ذہول" (بھول/غفلت) ہے (کیونکہ یہ تو بخاری و مسلم میں موجود ہے)۔
وأخرجه البخاري أيضًا (4715)، ومسلم (3030)، والنسائي (11224) من طريقين عن الأعمش، به.
📖 حوالہ / مصدر: اور اس کی تخریج بخاری نے (4715)، مسلم نے (3030) اور نسائی نے (11224) میں اعمش سے دو طریقوں کے ساتھ اسی سند و متن کے ساتھ کی ہے۔
وأخرجه مسلم (3030) (30) من طريق عبد الله بن عتبة، عن ابن مسعود بنحوه.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے مسلم نے (3030/ 30) میں عبد اللہ بن عتبہ کے طریق سے، ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔