المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
154. صفة حوض الكوثر
حوضِ کوثر کی صفت
حدیث نمبر: 3425
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيْباني، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرحمن بن المبارَك العَيْشي، حدثنا الصَّعْق بن حَزْن، عن علي بن الحَكَم، عن عثمان بن عُمَير، عن أبي وائل، عن ابن مسعود قال: جاء ابنا مُلَيكةَ، وهما من الأنصار، فقالا: يا رسول الله، إنَّ أمَّنا تَحفَظُ على البَعْل، وتُكرِم الضيفَ، وقد وَأَدَت في الجاهلية، فأين أمُّنا؟ قال:"أُمُّكما في النّار"، فقاما قد شَقَّ ذلك عليهما، فدَعَاهما رسولُ الله ﷺ، فَرَجَعا، فقال:"إِنَّ أَمِّي مع أمِّكما"، فقال منافقٌ من الناس لي: ما يُغْني هذا عن أمِّه إلا ما يُغْني ابنا مُلَيكة عن أمِّهما ونحن نَطَأُ عَقِبَيه، فقال رجل شابٌّ من الأنصار لم أرَ رجلًا كان أكثرَ سؤالًا لرسول الله ﷺ منه: يا رسول الله، إنَّ (1) أبواكَ في النار؟ قال: فقال رسول الله ﷺ:"ما سألتهما ربِّي فيُطِيعَني فيهما، وإني لقائمٌ يومَئذٍ المَقامَ المحمودَ". قال: فقال المنافقُ للشابِّ الأنصاري: سَلْهُ: وما المقامُ المحمود؟ قال: يا رسول الله، وما المقامُ المحمودُ؟ قال:"يومَ يَنزِلُ اللهُ ﷿ فيه على كرسيِّه يَئِطُّ به كما يَئِطُّ (2) الرَّحْلُ من تَضايُقِه، كسَعَةِ ما بينَ السماءِ والأرض، ويُجاءُ بكم عُراةً حُفاةً غُرْلًا، فيكونُ أولَ مَن يُكسَى إبراهيمُ، يقول الله ﷿: اكْسُوا خَليلي رَيْطَتَينِ بيضاوَين من رِيَاطِ الجنة، ثم أُكسَى على أَثَرِه، فأقومُ عن يمين الله ﷿ مَقامًا يَغبِطُني فيه الأولون والآخِرون، ويُشَقُّ لي نهرٌ من الكَوثَر إِلى حَوْضي". قال: يقول المنافقُ: لم أسمَعْ كاليوم قَطُّ، لَقَلَّ ما جَرَى نهرٌ قطُّ إلَّا كان في فَخَّارة أو رَضْراضٍ، فَسَلْه: فيما يجري النهرُ؟ قال:"في حالَةٍ من المِسْك ورَضْراضٍ"، قال: يقول المنافق: لم أسمَعْ كاليوم قطُّ، لَقَلَّ ما جَرَى نهرٌ قطُّ إلَّا كان له نبات، قال:"نعم"، قال: ما هو؟ قال:"قُضْبانُ الذَّهب"، قال: يقول المنافق: لم أسمَعْ كاليوم قطُّ، والله ما نَبَتَ قضيبٌ قطُّ إِلَّا كان له ثمرٌ، فسَلْه: هل لتلك القُضبانِ ثِمارٌ؟ قال:"نعم، اللؤلؤُ والجَوهَرُ"، قال: فقال المنافق: لم أسمَعْ كاليوم قطُّ، سَلْه عن شراب الحوض، فقال الأنصاري: يا رسول الله، ما شرابُ الحوض؟ قال:"أشدُّ بياضًا من اللَّبَن، وأَحلى من العَسَل، مَن سقَاه الله منه شَرْبةً لم يَظْمَأْ بعدَها، ومَن حَرَمَه لم يَرْوَ بعدَها" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وعثمان بن عُمَير هو أبو اليَقْظان.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3385 - لا والله فعثمان ضعفه الدراقطني والباقون ثقات
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وعثمان بن عُمَير هو أبو اليَقْظان.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3385 - لا والله فعثمان ضعفه الدراقطني والباقون ثقات
سیدنا ابن مسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ملیکہ کے دو بیٹے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے دونوں انصاری ہیں۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہماری والدہ اپنے شوہر کی خدمت کرتی ہے اور مہمان نواز ہے۔ لیکن زمانہ جاہلیت میں انہوں نے ایک بچی کو زندہ درگور کیا تھا تو ہماری والدہ کس حالت میں ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری والدہ جہنم میں ہے۔ وہ دونوں کھڑے ہوئے اور یہ بات ان دونوں پر بہت شاق گزری۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے پاس بلایا اور فرمایا: میری والدہ بھی تمہاری والدہ کے ساتھ ہے تو ایک منافق نے مجھے کہا: یہ (نبی) اپنی والدہ کے بارے میں اتنا ہی اختیار رکھتا ہے جتنا ملیکہ کے دونوں بیٹے اپنی ماں کے بارے میں۔ یہ بات کرتے ہوئے ہم اس کے پیچھے چل رہے تھے۔ ایک انصاری نوجوان نے کہا: اور میرا خیال ہے اس نوجوان سے زیادہ کوئی شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال نہیں کیا کرتا تھا (اس نے کہا) یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں تو آپ کے والدین کو جہنمی خیال کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے جو کچھ مانگا، اللہ تعالیٰ نے عطا کر دیا اور میں اس دن مقام محمود میں کھڑا ہوں گا۔ اس منافق نے انصاری نوجوان سے کہا: تو ان سے پوچھ کہ مقام محمود کیا ہے؟ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ” مقام محمود “ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس دن اللہ تعالیٰ اپنی اس کرسی پر (اپنی شان کے لائق) جلوہ فرما ہو گا اور وہ یوں جوش میں آئے گی جیسے کجاوہ تنگ ہونے کی وجہ سے جوش میں آتا ہے حالانکہ یہ اتنی وسیع ہے جتنی وسعت زمین اور آسمان کے درمیان ہے اور تمہیں ننگے پاؤں اور ننگے بدن لایا جائے گا اور سب غیر ختنہ شدہ ہوں گے۔ پھر سب سے پہلے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے دوست کو جنت کی دو سفید چادریں پہناؤ پھر ان کے بعد اسی طرح مجھے لباس پہنایا جائے گا۔ پھر میں اللہ عزوجل کی دائیں جانب ایسی جگہ پر کھڑا ہوں گا جہاں پر تمام اولین و آخرین میرے اوپر رشک کریں گے پھر کوثر سے میرے حوض تک ایک نہر بنائی جائے گی۔ منافق نے کہا: میں نے آج تک ایسی بات نہیں سنی، بہت کم نہریں جاری ہوتی ہیں اور وہ بھی پکی ہوئی مٹی میں یا کنکریوں میں جاری ہوتی ہیں۔ تو ان سے پوچھ: وہ نہر کس میں رواں ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشک حالہ اور کنکریوں میں۔ منافق نے کہا: ایسی بات تو میں نے اس سے پہلے آج تک نہیں سنی اور جہاں بھی نہر جاری ہوتی ہے اس میں پودے وغیرہ اُگے ہوتے ہیں: اس نے کہا: جی ہاں۔ اس نے پوچھا: اس نہر کے پودے کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونے کی ٹہنیاں ہوں گی۔ منافق نے کہا: ایسی بات میں نے پہلے تو کبھی نہیں سنی۔ خدا کی قسم! کوئی بھی پودا اُگتا ہے تو اس کے پھل ہوتے ہیں۔ تو ان سے پوچھ: ان ٹہنیوں پہ پھل ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہاں موتی اور جواہر اس کے پھل ہوں گے۔ اس نے کہا: ایسی بات میں نے پہلے کبھی نہیں سنی۔ تو ان سے حوض کے پانی کے متعلق پوچھ؟ اس انصاری نوجوان نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حوض کا پانی کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا، اللہ تعالیٰ جس کو اس کا ایک گھونٹ بھی پلا دے گا اس کو پھر کبھی پیاس نہیں لگے گی اور جو اس سے محروم رہا وہ کبھی سیراب نہیں ہو سکتا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ اور عثمان بن عمیر ” ابن یقظان “ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3425]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3425 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) هكذا في نسخنا الخطية، وزاد في حاشية (ز) مصحَّحًا عليه: أبي، ولا نرى لهذه الزيادة وجهًا. وأما ارتفاع لفظ "أبواك" فعلى أنه خبر "إنَّ" ويكون اسمها ضمير شأن محذوفًا، كقوله ﷺ فيما أخرجه مسلم (2109) وغيره -: "إنَّ من أشد أهل النار يوم القيامة عذابًا المصوِّرون" فالأصل: إنَّه، أي: الشأن. قاله ابن هشام الأنصاري في "مغني اللبيب" 1/ 37.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (1) ہمارے قلمی نسخوں میں ایسا ہی ہے، نسخہ (ز) کے حاشیے میں "أبی" کا اضافہ کیا گیا ہے جس کی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آتی۔ 📚 مجموعی اصول / قاعدہ: لفظ "أبواک" کا رفع (پیش) اس بنا پر ہے کہ یہ "إنَّ" کی خبر ہے اور اس کا اسم "ضمیرِ شان" محذوف ہے (جیسا کہ مسلم: 2109 میں ہے: "إنَّ من أشد..." اصل میں "إنہ..." ہے)۔ یہ توجیہ ابن ہشام انصاری نے "مغنی اللبیب" (1/ 37) میں بیان کی ہے۔
(2) في (ز) و (ص): ينط به، ولا وجاهة هنا لزيادة "به".
🔍 فنی نکتہ / علّت: (2) نسخہ (ز) اور (ص) میں "ینط بہ" ہے، یہاں "بہ" کے اضافے کی کوئی ضرورت یا وجہ نہیں ہے۔
(1) إسناده ضعيف لضعف عثمان بن عمير، وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه"، وقد انفرد به بهذا الطول.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند عثمان بن عمیر کے ضعیف ہونے کی وجہ سے "ضعیف" ہے، اور اسی وجہ سے ذہبی نے "تلخیص" میں اسے معلول قرار دیا ہے، نیز وہ اس طویل روایت میں "منفرد" ہے۔
وأخرجه الآجري في "الشريعة" (1096)، وأبو الشيخ في "العظمة" (225)، وابن شاهين في "ناسخ الحديث ومنسوخه" (655) من طريقين عن عبد الرحمن بن المبارك، بهذا الإسناد - وهو عندهم مختصر.
📖 حوالہ / مصدر: اسے آجری نے "الشریعۃ" (1096)، ابو الشیخ نے "العظمۃ" (225) اور ابن شاہین نے "ناسخ الحدیث" (655) میں عبد الرحمٰن بن مبارک سے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، مگر ان کے ہاں یہ "مختصر" ہے۔
وأخرجه الدارمي (2842)، والطبراني في "الكبير" (10018) و"الأوسط" (2559)، وعنه أبو نعيم في "الحلية" 4/ 239 من طريق أبي النعمان محمد بن الفضل عارم، عن الصعق بن حزن، به - وهو عند الدارمي والطبراني في "الأوسط" مختصر.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج دارمی (2842)، طبرانی نے "الکبیر" (10018) اور "الاوسط" (2559) میں، اور ان سے ابو نعیم نے "الحلیۃ" (4/ 239) میں ابو النعمان محمد بن فضل عارم کے واسطے سے، انہوں نے صعق بن حزن سے، اسی سند کے ساتھ کی ہے۔ دارمی اور طبرانی (الاوسط) کے ہاں یہ "مختصر" ہے۔
وقد رواه عارم مرةً أخرى عند أحمد في "المسند" 6/ (3787) وغيره، فجعله من حديث سعيد بن زيد بن درهم، عن علي بن الحكم، عن عثمان بن عمير، عن إبراهيم النخعي، عن الأسود وعلقمة، عن ابن مسعود. فهذا الاضطراب في الإسناد أغلب الظن أنه من عثمان بن عمير نفسه.
🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی "عارم" نے اسے دوسری مرتبہ مسند احمد (6/ 3787) میں روایت کیا تو سند تبدیل کر دی (سعید بن زید... عن عثمان بن عمیر... عن الاسود وعلقمہ)۔ 📌 اہم نکتہ: سند میں یہ "اضطراب" (گڑبڑ) غالب گمان کے مطابق خود عثمان بن عمیر کی طرف سے ہے۔
وخالف محمدُ بن كثير - وهو العبدي - فروى قصة ابني مُليكة بنحوها عن سفيان الثوري عن منصور عن إبراهيم عن علقمة، قال: جاء ابنا مليكة … هكذا رواه مرسلًا، أخرجه من هذا الطريق ابن بطة في "الإبانة الكبرى" 4/ 80 - 81.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اور محمد بن کثیر (العبدی) نے مخالفت کرتے ہوئے "ابن ملیکہ کے دو بیٹوں" کا قصہ سفیان الثوری سے، انہوں نے منصور سے، انہوں نے ابراہیم سے اور انہوں نے علقمہ سے "مرسلاً" روایت کیا ہے (صحابی کا واسطہ گرایا ہے)۔ اسے ابن بطہ نے "الابانۃ الکبریٰ" (4/ 80-81) میں اسی طریق سے نکالا ہے۔
غُرلًا: جمع الأَغرَل، وهو الذي لم تُقطع غُرْلته، وهي الجلدة التي تُقطع في الختان.
📝 نوٹ / توضیح: "غُرلًا" (جمع ہے اغرل کی): وہ شخص جس کا ختنہ نہ ہوا ہو (یعنی وہ کھال جو ختنے میں کاٹی جاتی ہے، موجود ہو)۔
الرَّيْطة: ثوب رقيق ليِّن. الفخّارة: يريد الطِّين.
📝 نوٹ / توضیح: "الرَّيْطة": باریک اور نرم کپڑا۔ "الفخّارة": اس سے مراد (پکی ہوئی) مٹی ہے۔
الرَّضْراض: ما دَقَّ من الحصى.
📝 نوٹ / توضیح: "الرَّضْراض": باریک کنکریاں۔
الحالة: الطّين.
📝 نوٹ / توضیح: "الحالة": مٹی/کیچڑ۔