🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
156. صعود على على منكب رسول الله وإلقاء الصنم عن سقف الكعبة
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ ﷺ کے کندھوں پر چڑھ کر کعبہ کی چھت سے بت گرانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3427
حدثنا أبو بكر أحمد بن كامل بن خَلَف بن شَجَرة القاضي إملاءً، حدثنا عبد الله بن رَوْح المَدائني، حدثنا شَبَابةُ بن سَوّار، حدثنا نُعَيم بن حَكيم، حدثنا أبو مريم، عن علي بن أبي طالب قال: انطلَقَ بي رسولُ الله ﷺ حتى أَتى بي الكعبةَ، فقال لي:"اجلسْ" فجلستُ إلى جَنْب الكعبة، فصَعِدَ رسولُ الله ﷺ بمَنكِبيّ، ثم قال لي:"انهَضْ" فنهضتُ، فلمّا رأى ضَعْفي تحتَه قال لي:"اجلِسْ" فنزلتُ وجلستُ، ثم قال لي:"يا عليُّ، اصعَدْ على مَنكِبيَّ"، فصَعِدتُ على مَنكِبَيه، ثم نَهَضَ بي رسولُ الله ﷺ، فلما نَهَضَ بي خُيِّلَ إليَّ لو شئتُ نِلتُ أفُقَ السماء، فصَعِدتُ فوقَ الكعبة، وتنحَّى رسولُ الله ﷺ، فقال لي:"أَلْقِ صنمَهم الأكبرَ، صنمَ قُريش"، وكان من نحاسٍ مُوتَدًا بأوتادٍ من حديد إلى الأرض، فقال لي رسول الله ﷺ:"عالِجْه"، ورسول الله ﷺ يقول لي:"إيهِ إيهِ ﴿جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا﴾ [الإسراء: 81] "، فلم أزَلْ أعالجُه حتى استمكنتُ منه، فقال:"اقذِفْه"، فقَذَفته، فتكسَّر ونَزَوتُ من فوقِ الكعبة، فانطلقتُ أنا والنبيُّ ﷺ نَسعَى، وخَشِينا أن يرانا أحدٌ من قريش أو غيرهم، قال علي: فما صُعِدَ به حتى الساعةِ (2) .
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے ہمراہ لے کر چل دیئے اور کعبۃ اللہ میں لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: بیٹھ جاؤ، میں کعبہ کے پہلو میں بیٹھ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے کندھوں پر سوار ہو گئے اور مجھے فرمایا: اٹھو! میں اٹھا، لیکن جب آپ نے میری کمزوری اور ضعف کو دیکھا تو مجھے فرمایا: بیٹھ جاؤ، میں بیٹھ گیا، پھر آپ نے مجھ سے کہا: اے علی! تم میرے کندھوں پر چڑھو، میں آپ کے کندھوں پر چڑھ گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اوپر اٹھایا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اوپر اٹھا لیا (تو اس قدر بلند ہو چکا تھا) مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ اگر میں چاہوں تو آسمان کے کناروں کو ہاتھ لگا سکتا ہوں، پھر میں کعبہ کے اوپر چڑھ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے سے ہٹ گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ان کے بڑے بت کو گراؤ، وہ قریش کا بت تھا۔ وہ تانبے کا بنا ہوا تھا اور لوہے کی کیلوں کے ساتھ زمین کے ساتھ ٹھونکا ہوا تھا۔ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا علاج کر دو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کہہ رہے تھے اور کرو، اور کرو: وَقُلْ جَآئَ الْحَقُّ وَ زَھَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا (الاسراء: 81) اور فرمایا کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا بے شک باطل کو مٹنا ہی تھا ۔ میں اس کو مسلسل توڑتا رہا حتیٰ کہ اس کو زمین سے اکھیڑ ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو پھینک دو، میں نے اس کو پھینک دیا، تو وہ ٹوٹ گیا اور میں نے کعبہ کے اوپر سے نیچے چھلانگ لگا دی۔ پھر میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیز تیز چلتے ہوئے وہاں سے نکل آئے کیونکہ ہمیں خدشہ تھا کہ قریش یا دوسرے قبیلے کا کوئی آدمی ہمیں نہ دیکھ لے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آج تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور کسی کو (اپنے کندھوں پر) نہیں چڑھایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3427]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3427 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده فيه لين من جهة تفرُّد نعيم بن حكيم به، ونعيم مختلف فيه، وأما أبو مريم: وهو المدائني واسمه قيس، وقيل: هو الثقفي، وقيل: الحنفي، فقد وثَّقه النسائي وذكره ابن حبان في "الثقات" وتابعهما على توثيقه الذهبي في "الكاشف"، وجهَّله الدارقطني وتابعه ابن حجر في "التقريب". ومع ذلك فقد صحَّح الطبريُّ إسناد هذا الحديث في كتابه "تهذيب الآثار" في مسند علي ص 237، وقال الذهبي في "تلخيص المستدرك": إسناده نظيف والمتن منكر.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند میں "نعیم بن حکیم" کے تفرد کی وجہ سے "لیّن" (کمزوری/نرمی) ہے، اور نعیم میں اختلاف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو مریم (المدائنی، نام قیس) کی توثیق نسائی اور ابن حبان نے کی ہے اور ذہبی نے تائید کی ہے، جبکہ دارقطنی اور ابن حجر نے انہیں مجہول کہا ہے۔ اس کے باوجود طبری نے "تہذیب الآثار" (ص 237) میں اس سند کو صحیح کہا ہے، اور ذہبی نے "تلخیص" میں کہا: "سند ستھری ہے مگر متن منکر ہے"۔
وأخرجه أحمد (2/ 644) عن أسباط بن محمد، عن نعيم بن حكيم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (2/ 644) نے اسباط بن محمد سے، انہوں نے نعیم بن حکیم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر ما بعده وما سيأتي برقم (4311).
📝 نوٹ / توضیح: اس کے بعد والی اور نمبر (4311) پر آنے والی روایت دیکھیں۔