المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
158. فضيلة قراءة سورة الكهف يوم الجمعة
جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 3433
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، أخبرنا السَّرِيّ بن خُزيمة، حدثنا سعيد بن هُبَيرة، حدثنا عبد الله بن المبارَك، أخبرنا صفوان بن عمرو، عن عبد الله (2) بن بُسْر، عن أبي أُمامةَ، عن النبي ﷺ في قوله ﷿: ﴿وَيُسْقَى مِنْ مَاءٍ صَدِيدٍ (16) يَتَجَرَّعُهُ﴾ [إبراهيم: 16، 17] ، قال:"يُقرَّب إليه فيَتكرَّهُه، فإذا أُدنِيَ منه شَوَى وجهَه ووَقَعَ فَرْوةُ رأسه، فإذا شربه قَطَّعَ أمعاءَه حتى يَخرُجَ من دُبُرِه" يقول الله ﷿: ﴿وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ﴾ [محمد: 15] ، ويقول الله ﷿: ﴿وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ﴾ [الكهف: 29] (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابواسامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد: وَیُسْقٰی مِنْ مَّآئٍ صَدِیْدٍ یَّتَجَرَّعُہٗ (ابراہیم: 16-17) ” اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا، بہ مشکل اس کا تھوڑا تھوڑا گھونٹ لے گا “۔ فرمایا: اس کو یہ پیش کیا جائے گا تو وہ اس کو ناپسند کرے گا پھر جب وہ اس کو اپنے منہ کے قریب کرے گا تو اس کا چہرہ جھلس جائے گا اور اس کے سر کی کھال بالوں سمیت جھڑ جائے گی، جب وہ اس کو پئے گا جس سے اس کی انتڑیاں گل سڑ جائیں گی اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَسُقُوْا مَآئً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآئَھُمْ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم : 15) ” اور انہیں کھولتا پانی پلایا جائے گا کہ آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے “۔ وَاِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآئٍ کَالْمُھْلِ یَشْوِی الْوُجُوْہَ بِئْسَ الشَّرَابُ) (الکھف: 29) ” اور اگر پانی کے لیے فریاد کریں تو ان کی فریاد رسی ہو گی اس پانی سے کہ چرخ دیئے ہوئے (کھولتے ہوئے) دھات کی طرح ہے کہ ان کے منہ بھون دے گا کیا ہی برا پینا ہے “۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3433]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3433 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في (ز): عبيد الله، مصغرًا، لكن ضُبِّب عليها، وقد سلف الكلام عليه عند الحديث رقم (3379).
🔍 فنی نکتہ / علّت: (2) نسخہ (ز) میں "عبید اللہ" (تصغیر کے ساتھ) ہے، لیکن اس پر "ضبہ" (علامتِ شک/غلطی) لگائی گئی ہے۔ اس پر بحث حدیث نمبر (3379) کے تحت گزر چکی ہے۔
(3) سعيد بن هبيرة ليس بالقوي كما قال أبو حاتم الرازي في "الجرح والتعديل" 4/ 71، ورماه ابن حبان في "المجروحين" 1/ 327 بالوضع، وهو لم ينفرد به فقد تابعه فيه عن ابن المبارك غيرُ واحد، ورجال الإسناد غيرُه ثقات، وقد سلف برقم (3379) من طريق عبدان المروزي عن ابن المبارك.
⚖️ درجۂ حدیث: (3) سعید بن ہبیرہ "قوی" نہیں ہیں جیسا کہ ابو حاتم رازی نے "الجرح والتعدیل" (4/ 71) میں کہا ہے، اور ابن حبان نے "المجروحین" (1/ 327) میں ان پر حدیث گھڑنے (وضع) کا الزام لگایا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: لیکن وہ اس روایت میں "منفرد" نہیں ہیں، کیونکہ ابن مبارک سے روایت کرنے میں کئی راویوں نے ان کی متابعت کی ہے۔ اور اس سند کے باقی تمام راوی "ثقہ" ہیں۔ یہ روایت نمبر (3379) پر عبدان المروزی کے طریق سے، ابن مبارک سے گزر چکی ہے۔