المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
161. ذراري المؤمنين فى الجنة يكفلهم إبراهيم عليه السلام .
اہلِ ایمان کی اولادیں جنت میں ہوں گی اور ان کی کفالت حضرت ابراہیم علیہ السلام کریں گے
حدیث نمبر: 3440
حدثنا يحيى بن منصور القاضي، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا سفيان، عن منصور. وأخبرنا أبو زكريا العَنبَري - واللفظُ له - حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، حدثنا جَرِير، عن منصور، عن مُصعَب بن سعد بن أبي وَقَّاص قال: قلت لأَبي: ﴿هَلْ نُنَبِّئُكُمْ (1) بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا (103) الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا﴾ [الكهف: 103، 104] الحَرُوريَّةُ هم؟ قال: لا، ولكنهم أصحابُ الصَّوَامع، والحَرُوريَّة قومٌ زاغوا فأزاغ اللهُ قلوبَهم (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3400 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3400 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا مصعب بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ: ھَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًا اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ ھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا (الکھف: 103-104) ” تم فرماؤ کیا ہم تمہیں بتا دیں کہ سب سے بڑھ کر ناقص عمل کن کے ہیں۔ ان کے جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں گم گئی اور وہ اس خیال میں ہیں کہ اچھا کام کر رہے ہیں “۔ (اس آیت میں جن لوگوں کا ذکر ہے کیا) وہ ” حروریہ “ لوگ ہیں۔ انہوں نے کہا: نہیں بلکہ وہ تو ” اصحاب صوامع “ نصاریٰ کے رہبان ہیں جبکہ (” حروریہ “ وہ قوم ہے جو ٹیڑھی ہو گئی، اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں کجی ڈال دی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3440]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3440 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) وقع في النسخ الخطية: "أنبئكم" على الإفراد، وهو خلاف التلاوة وليس في شيء من القراءات.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (1) قلمی نسخوں میں "أنبئکم" (صیغہ واحد متکلم) لکھا ہے، جو کہ تلاوت (قرآن) کے خلاف ہے اور کسی بھی قراءت میں نہیں ہے۔
(2) إسناده صحيح. أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين، سفيان: هو الثوري، وإسحاق: هو ابن راهويه، وجرير: هو ابن عبد الحميد، ومنصور: هو ابن المعتمر.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند "صحیح" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو نعیم: فضل بن دکین، سفیان: ثوری، اسحاق: ابن راہویہ، جریر: ابن عبد الحمید، منصور: ابن المعتمر۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 16/ 33 عن محمد بن حميد، عن جرير بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے "تفسیر" (16/ 33) میں محمد بن حمید کے واسطے سے، جریر سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ورواه مختصرًا عبد الرزاق في "تفسيره" 1/ 413، وعبد الرحمن بن مهدي عند الطبري 16/ 32 - 33، كلاهما عن سفيان الثوري بإدخال هلال بن يِساف بين منصور ومصعب. ومنصور بن المعتمر لا يُعرف بتدليس، فلعله سمعه من هلال عن مصعب ثم سمعه من مصعب فرواه على الوجهين، والله تعالى أعلم، وهلال بن يساف ثقة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبد الرزاق نے "تفسیر" (1/ 413) اور عبد الرحمٰن بن مہدی نے (طبری: 16/ 32-33) سفیان الثوری سے "مختصراً" روایت کیا ہے، جس میں منصور اور مصعب کے درمیان "ہلال بن یساف" کا واسطہ داخل کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: منصور بن معتمر "تدلیس" کے ساتھ معروف نہیں ہیں، شاید انہوں نے ہلال سے (مصعب کے حوالے سے) سنا ہو اور پھر براہ راست مصعب سے بھی سنا ہو، تو دونوں طرح روایت کر دیا، واللہ اعلم۔ اور ہلال بن یساف "ثقہ" ہیں۔
وانظر ما بعده.
📝 نوٹ / توضیح: اس کے بعد والی روایت دیکھیں۔