🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
161. ذراري المؤمنين فى الجنة يكفلهم إبراهيم عليه السلام .
اہلِ ایمان کی اولادیں جنت میں ہوں گی اور ان کی کفالت حضرت ابراہیم علیہ السلام کریں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3441
أخبرني محمد بن إسحاق الصَّفّار العَدْل، حدثنا أحمد بن نَصْر، حدثنا عمرو بن طلحة القَنَّاد، حدثنا خلَّاد بن مُسلِم الصَّفّار، حدثنا عمرو بن قيس المُلَائي، عن عمرو بن مُرَّة، عن مُصعَب بن سعد قال: كنت أقرأُ على أَبي حتى إذا بلغتُ هذه الآية: ﴿قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا﴾ الآية، قلت: يا أبَتاهُ، أهم الخوارجُ؟ قال: لا يا بنيَّ، اقرأ الآيةَ التي بعدها: ﴿أُولَئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا﴾، قال: هم المجتهدون من النَّصارى، كان كفرُهم بآيات ربهم كفروا بمحمَّدٍ ولقائِه، وقالوا: ليس في الجنة طعام ولا شراب، ولكن الخوارج هم الفاسقون ﴿الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ أُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ﴾ [البقرة: 27] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3401 - صحيح
سیدنا مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں سیدنا ابی (ابن کعب) کو قرآن پاک سنا رہا تھا، جب میں اس آیت پر پہنچا: ھَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًا (الکھف: 103) تم فرماؤ کیا میں تمہیں بتاؤں کہ سب سے بڑھ کر ناقص اعمال کس کے ہیں؟۔، میں نے پوچھا: اے بزرگوار! کیا یہ خوارج ہیں؟ آپ نے فرمایا: اے میرے پیارے بیٹے! نہیں۔ تم اس کے بعد والی آیت پڑھو: اُوْلَئِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ وَ لِقَآئِہٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَزْنًا (الکھف: 105) یہ لوگ جنہوں نے اپنے رب کی آیتیں اور اس کا ملنا نہ مانا تو ان کا کیا دھرا سب اکارت ہے تو ہم ان کے لیے قیامت کے دن کوئی تول قائم نہ کریں گے ۔ آپ نے فرمایا: وہ تو نصاریٰ کے علماء ہیں جو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کی گئی نشانیوں کے منکر تھے اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا انکار کرتے تھے اور کہتے تھے: جنت میں کوئی خورد و نوش نہیں ہے اور خوارج وہ فاسق لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے پختہ وعدہ کر کے توڑ ڈالا تھا اور اس چیز کو توڑا جس کو ملانے کا حکم دیا تھا اور زمین میں فساد کرتے ہیں، یہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3441]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3441 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده قوي.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "قوی" ہے۔
وأخرجه بنحوه البخاري (4728)، والنسائي (11251) من طريق شعبة، عن عمرو بن مرة، بهذا الإسناد - وذكر مع النصارى اليهودَ. واستدراك الحاكم له ذهول منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (4728) اور نسائی (11251) نے شعبہ کے طریق سے، عمرو بن مرہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، اور (اس میں) نصاریٰ کے ساتھ یہودیوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: حاکم کا اسے مستدرک کہنا ان کا "ذہول" (غفلت) ہے۔