🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

161. ذَرَارِيُّ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْجَنَّةِ يَكْفُلُهُمْ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ .
اہلِ ایمان کی اولادیں جنت میں ہوں گی اور ان کی کفالت حضرت ابراہیم علیہ السلام کریں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3439
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو حاتم الرَّازي، حدثنا عبد الله بن صالح بن مُسلِم العِجْلي، حدثنا عبد الرحمن بن ثابت بن ثَوْبان، عن عطاء بن قُرَّة، عن عبد الله بن ضَمْرة، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إِنَّ ذَرَارِيَّ المؤمنين في الجنة يَكفُلُهم إبراهيمُ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد اتَّفَقَ الشيخانِ على إخراج حديث سعيد بن جُبير عن ابن عبَّاس: أنَّ النبي ﷺ سُئِلَ عن أطفال المشركين، فقال:"الله أعلمُ بما كانوا عامِلِينَ" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3399 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مومنوں کی اولاد جنت میں رہیں گے اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام ان کی کفالت کریں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کے بچوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے جو وہ عمل کرنے والے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3439]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3440
حدثنا يحيى بن منصور القاضي، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا سفيان، عن منصور. وأخبرنا أبو زكريا العَنبَري - واللفظُ له - حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، حدثنا جَرِير، عن منصور، عن مُصعَب بن سعد بن أبي وَقَّاص قال: قلت لأَبي: ﴿هَلْ نُنَبِّئُكُمْ (1) بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا (103) الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا﴾ [الكهف: 103، 104] الحَرُوريَّةُ هم؟ قال: لا، ولكنهم أصحابُ الصَّوَامع، والحَرُوريَّة قومٌ زاغوا فأزاغ اللهُ قلوبَهم (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3400 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا مصعب بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ: ھَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًا اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ ھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا (الکھف: 103-104) تم فرماؤ کیا ہم تمہیں بتا دیں کہ سب سے بڑھ کر ناقص عمل کن کے ہیں۔ ان کے جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں گم گئی اور وہ اس خیال میں ہیں کہ اچھا کام کر رہے ہیں ۔ (اس آیت میں جن لوگوں کا ذکر ہے کیا) وہ حروریہ لوگ ہیں۔ انہوں نے کہا: نہیں بلکہ وہ تو اصحاب صوامع نصاریٰ کے رہبان ہیں جبکہ ( حروریہ وہ قوم ہے جو ٹیڑھی ہو گئی، اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں کجی ڈال دی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3440]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3441
أخبرني محمد بن إسحاق الصَّفّار العَدْل، حدثنا أحمد بن نَصْر، حدثنا عمرو بن طلحة القَنَّاد، حدثنا خلَّاد بن مُسلِم الصَّفّار، حدثنا عمرو بن قيس المُلَائي، عن عمرو بن مُرَّة، عن مُصعَب بن سعد قال: كنت أقرأُ على أَبي حتى إذا بلغتُ هذه الآية: ﴿قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا﴾ الآية، قلت: يا أبَتاهُ، أهم الخوارجُ؟ قال: لا يا بنيَّ، اقرأ الآيةَ التي بعدها: ﴿أُولَئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا﴾، قال: هم المجتهدون من النَّصارى، كان كفرُهم بآيات ربهم كفروا بمحمَّدٍ ولقائِه، وقالوا: ليس في الجنة طعام ولا شراب، ولكن الخوارج هم الفاسقون ﴿الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ أُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ﴾ [البقرة: 27] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3401 - صحيح
سیدنا مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں سیدنا ابی (ابن کعب) کو قرآن پاک سنا رہا تھا، جب میں اس آیت پر پہنچا: ھَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًا (الکھف: 103) تم فرماؤ کیا میں تمہیں بتاؤں کہ سب سے بڑھ کر ناقص اعمال کس کے ہیں؟۔، میں نے پوچھا: اے بزرگوار! کیا یہ خوارج ہیں؟ آپ نے فرمایا: اے میرے پیارے بیٹے! نہیں۔ تم اس کے بعد والی آیت پڑھو: اُوْلَئِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ وَ لِقَآئِہٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَزْنًا (الکھف: 105) یہ لوگ جنہوں نے اپنے رب کی آیتیں اور اس کا ملنا نہ مانا تو ان کا کیا دھرا سب اکارت ہے تو ہم ان کے لیے قیامت کے دن کوئی تول قائم نہ کریں گے ۔ آپ نے فرمایا: وہ تو نصاریٰ کے علماء ہیں جو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کی گئی نشانیوں کے منکر تھے اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا انکار کرتے تھے اور کہتے تھے: جنت میں کوئی خورد و نوش نہیں ہے اور خوارج وہ فاسق لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے پختہ وعدہ کر کے توڑ ڈالا تھا اور اس چیز کو توڑا جس کو ملانے کا حکم دیا تھا اور زمین میں فساد کرتے ہیں، یہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3441]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں