المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
174. لِبَاسُ مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - حِينَ كَلَّمَ رَبَّهُ عَلَى الطُّورِ
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا لباس جب انہوں نے کوہِ طور پر اپنے رب سے کلام کیا
حدیث نمبر: 3472
أخبرنا الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا عمر بن حفص بن غِيَاث، حدثنا أَبي وخَلَف بن خليفة، عن حُميد بن قيس، عن عبد الله بن الحارث، عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله ﷺ:"يومَ كلَّمَ اللهُ موسى كانت عليه جُبَّةُ صوفٍ وكِساءُ صوفٍ وسَراويلُ صوفٍ وكُمَّةُ صوفٍ، ونَعلانِ من جلدِ حمارٍ غيرِ ذكيٍّ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3431 - بل ليس على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3431 - بل ليس على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس دن اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا، اس وقت ان کے جسم پر اون کا جبہ، اون کی چادر، اون کا پاجامہ اور اون ہی کی ٹوپی تھی، اور ان کے جوتے غیر ذبح شدہ گدھے کی کھال کے بنے ہوئے تھے۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3472]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3472]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، حميد بن قيس هذا قد وَهِمَ أحدُ الرواة فسمّاه هكذا، والصواب أنه حميد بن علي أو ابن عمار، وهو أحد المتروكين كما قال الذهبي في "تلخيصه"، وقد سبق للمصنف أن نبَّه على ذلك حيث خرَّجه فيما سلف برقم (76)، وذَهَلَ عنه هنا.» [ترقيم الرساله 3472] [ترقيم الشركة 3451] [ترقيم العلميه 3431]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3472 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف جدًّا، حميد بن قيس هذا قد وَهِمَ أحدُ الرواة فسمّاه هكذا، والصواب أنه حميد بن علي أو ابن عمار، وهو أحد المتروكين كما قال الذهبي في "تلخيصه"، وقد سبق للمصنف أن نبَّه على ذلك حيث خرَّجه فيما سلف برقم (76)، وذَهَلَ عنه هنا.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "انتہائی ضعیف" (ضعیف جداً) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: حمید بن قیس نامی یہ راوی اصل میں کسی راوی کا "وہم" ہے، صحیح نام "حمید بن علی" یا "حمید بن عمار" ہے اور وہ "متروکین" میں سے ہیں جیسا کہ ذہبی نے "تلخیص" میں کہا ہے۔ مصنف (حاکم) نے پہلے (نمبر 76) پر اس پر تنبیہ کی تھی مگر یہاں ان سے "ذہول" (بھول) ہو گیا۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 3472 in Urdu