المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
186. نار جهنم سوداء لا يضيء لهيبها ولا جمرها
جہنم کی آگ سیاہ ہے، نہ اس کا شعلہ روشن ہے اور نہ اس کا انگارہ
حدیث نمبر: 3502
حدَّثَناه أبو الحسن محمد بن موسى بن عِمران الفقيه من أصل كتابه، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا أبو هاشم زياد بن أيوب، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا شُعْبة، عن السُّدِّي، عن مُرَّة، عن عبد الله بن مسعود رَفَعَه، في قول الله ﷿: ﴿وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ﴾، قال:"لو أنَّ رجلًا هَمَّ فيه بإلحادٍ وهو بعدَنِ أَبْيَنَ، لَأذاقه اللهُ عذابًا أليمًا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3461 - يزيد بن هارون أنا شعبة عن السدي عن مرة عن عبد الله رفعه على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3461 - يزيد بن هارون أنا شعبة عن السدي عن مرة عن عبد الله رفعه على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد: وَمَنْ یُّرِدْ فِیْہِ بِاِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْہُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ (الحج: 25) ” اور جو اس میں کسی زیادتی کا ناحق ارادہ کرے ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے “۔ (،) کے متعلق مرفوعاً روایت ہے۔ اگر کوئی شخص بیت اللہ میں کسی زیادتی کا ارادہ کرے اور وہ عدن سے بھی دور ہو اللہ تعالیٰ اس کو دردناک عذاب چکھائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3502]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3502 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل السَّدِّي، إلَّا أنه كان يخطئ فيه فيرفعه أحيانًا كما في رواية شعبة، والصواب وقفه كما في رواية غير شعبة عنه.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند سدی کی وجہ سے "حسن" ہے، مگر وہ غلطی سے کبھی اسے مرفوع کر دیتے تھے (جیسے شعبہ کی روایت میں)، صحیح اس کا "وقف" ہونا ہے۔
وأخرجه أحمد (7/ 4071) وغيره عن يزيد بن هارون، بهذا الإسناد. قال يزيد: قال لي شعبة: ورفعه - يعني السدي - ولا أرفعه لك.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (7/ 4071) نے یزید بن ہارون سے روایت کیا ہے۔ یزید کہتے ہیں شعبہ نے مجھ سے کہا: "سدی نے اسے مرفوع کیا مگر میں تمہارے لیے مرفوع نہیں کرتا"۔
ورواه سفيانُ الثوري عند ابن أبي شيبة 8/ 376، والطبري في "تفسيره" 17/ 141 - 142، ويحيى بن أبي أنيسة عند الأزرقي في "أخبار مكة" 2/ 136، كلاهما عن السُّدِّي، به موقوفًا، وهو المحفوظ.
📖 حوالہ / مصدر: اسے سفیان الثوری اور یحییٰ بن ابی انیسہ نے سدی سے "موقوفاً" روایت کیا ہے، اور یہی "محفوظ" ہے۔