المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
187. قِصَّةُ خُرُوجِ تُبَّعٍ عَلَى الْكَعْبَةِ ثُمَّ انْفِعَالِهِ وَحَجِّهِ الْبَيْتَ
تبع کے کعبہ کی طرف نکلنے، پھر اس کے متاثر ہونے اور بیت اللہ کا حج کرنے کا واقعہ
حدیث نمبر: 3505
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا جَرِير، عن قابوس، عن أبيه، عن ابن عبَّاس قال: لما فَرَغَ إبراهيمُ من بناء البيت قال: ربِّ قد فَرَغتُ، فقال: أذِّن في الناس بالحجِّ، قال: ربِّ وما يَبْلُغُ صوتي؟! قال: أذِّنْ وعليَّ البلاغُ، قال: ربِّ كيف أقولُ؟ قال: يا أيها الناس، كُتِبَ عليكم الحجُّ، حجُّ البيتِ العَتيق. فسمعه مَن بين السماءِ والأرضِ، ألا ترونَ أنهم يجيئون من أقصى الأرضِ يُلبُّون (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3464 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3464 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام بیت اللہ کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو عرض کیا: ”اے میرے رب! میں فارغ ہو چکا ہوں،“ اللہ نے فرمایا: ”لوگوں میں حج کا اعلان کر دو،“ انہوں نے عرض کیا: ”اے میرے رب! میری آواز (سب تک) کیسے پہنچے گی؟“ اللہ نے فرمایا: ”تم اعلان کرو اور پہنچانا میرا کام ہے،“ انہوں نے پوچھا: ”اے میرے رب! میں کیا کہوں؟“ اللہ نے فرمایا: (کہو) ”اے لوگو! تم پر حج، یعنی اللہ کے قدیم گھر کا حج فرض کر دیا گیا ہے۔“ پس اس پکار کو زمین اور آسمان کے درمیان موجود ہر مخلوق نے سنا، کیا تم نہیں دیکھتے کہ لوگ زمین کے دور دراز کونوں سے تلبیہ پکارتے ہوئے چلے آتے ہیں؟
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3505]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3505]
تخریج الحدیث: «إسناده فيه لِين من أجل قابوس: وهو ابن أبي ظَبْيان. إسحاق: هو ابن راهويه، وجرير: هو ابن عبد الحميد.» [ترقيم الرساله 3505] [ترقيم الشركة 3484] [ترقيم العلميه 3464]
الحكم على الحديث: إسناده فيه لِين من أجل قابوس: وهو ابن أبي ظَبْيان. إسحاق: هو ابن راهويه
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3505 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده فيه لِين من أجل قابوس: وهو ابن أبي ظَبْيان. إسحاق: هو ابن راهويه، وجرير: هو ابن عبد الحميد.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند میں قابوس (ابن ابی ظبیان) کی وجہ سے "لیّن" (کمزوری) ہے۔ اسحاق: ابن راہویہ، جریر: ابن عبد الحمید۔
وأخرجه البيهقي في "سننه" 5/ 176، ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 6/ 205 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "سنن" (5/ 176) اور ان کے واسطے سے ابن عساکر (6/ 205) نے حاکم کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي "شيبة" 11/ 518، وأحمد بن منيع في "مسنده" كما في "المطالب العالية" (1127) - ومن طريقه الضياء في "المختارة" (10/ 11) - والطبري في "تفسيره" 17/ 144، و"تاريخه" 1/ 260 من طريق جرير، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ (11/ 518)، احمد بن منیع (المطالب العالیہ: 1127)، ضیاء مقدسی اور طبری نے جریر کے طریق سے روایت کیا ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 3505 in Urdu