🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
187. قصة خروج تبع على الكعبة ثم انفعاله وحجه البيت
تبع کے کعبہ کی طرف نکلنے، پھر اس کے متاثر ہونے اور بیت اللہ کا حج کرنے کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3505
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا جَرِير، عن قابوس، عن أبيه، عن ابن عبَّاس قال: لما فَرَغَ إبراهيمُ من بناء البيت قال: ربِّ قد فَرَغتُ، فقال: أذِّن في الناس بالحجِّ، قال: ربِّ وما يَبْلُغُ صوتي؟! قال: أذِّنْ وعليَّ البلاغُ، قال: ربِّ كيف أقولُ؟ قال: يا أيها الناس، كُتِبَ عليكم الحجُّ، حجُّ البيتِ العَتيق. فسمعه مَن بين السماءِ والأرضِ، ألا ترونَ أنهم يجيئون من أقصى الأرضِ يُلبُّون (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3464 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام بیت اللہ کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو عرض کی: اے میرے رب! میں فارغ ہو چکا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ (الحج: 27) اور لوگوں میں حج کی عام ندا کر دے ۔ عرض کی: اے میرے رب، میری آواز (ان سب لوگوں تک) کیسے پہنچے گی؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم اعلان کرو آپ کی آواز پہنچانا ہمارے ذمہ ہے۔ عرض کی: اے میرے رب! میں کیا بولوں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کہو اے لوگو! تم پر بیت العتیق کا حج فرض کیا گیا ہے ۔ آپ کی اس آواز کو زمین و آسمان کی تمام مخلوقات نے سنا، کیا تم یہ نہیں دیکھتے کہ لوگ دنیا کے کونے کونے سے تلبیہ کہتے ہوئے یہاں حاضر ہوتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3505]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3505 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده فيه لِين من أجل قابوس: وهو ابن أبي ظَبْيان. إسحاق: هو ابن راهويه، وجرير: هو ابن عبد الحميد.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند میں قابوس (ابن ابی ظبیان) کی وجہ سے "لیّن" (کمزوری) ہے۔ اسحاق: ابن راہویہ، جریر: ابن عبد الحمید۔
وأخرجه البيهقي في "سننه" 5/ 176، ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 6/ 205 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "سنن" (5/ 176) اور ان کے واسطے سے ابن عساکر (6/ 205) نے حاکم کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي "شيبة" 11/ 518، وأحمد بن منيع في "مسنده" كما في "المطالب العالية" (1127) - ومن طريقه الضياء في "المختارة" (10/ 11) - والطبري في "تفسيره" 17/ 144، و"تاريخه" 1/ 260 من طريق جرير، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ (11/ 518)، احمد بن منیع (المطالب العالیہ: 1127)، ضیاء مقدسی اور طبری نے جریر کے طریق سے روایت کیا ہے۔