🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
192. أحاديث السجدتين فى سورة الحج
سورۂ حج کے دو سجدوں سے متعلق احادیث
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3520
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن يونس الضَّبِّي، حدثنا أبو عامر العَقَدي، حدثنا زهير بن محمد العَنبَري، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل بن أبي طالب، عن علي بن الحسين: ﴿لِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوهُ﴾ [الحج: 67] ، قال: ذِبْحٌ هم ذابِحُوه. حدَّثَني أبو رافع: أنَّ رسول الله ﷺ كان إذا ضحَّى اشترى كبشَينِ سمينَينِ أملَحَينِ أقرَنَين، فإذا خَطَبَ وصلَّى ذبح أحدَ الكبشين بنفسه بالمُدْية ثم يقول:"اللهمَّ هذا عن أمَّتي جميعًا، مَن شَهِدَ لك بالتوحيد، وشَهِدَ لي بالبَلَاغ"، ثم أتى بالآخر فذَبَحَه وقال:"اللهمَّ هذا عن محمدٍ وآل محمدٍ"، ثم يُطعِمُهما المساكينَ ويأكلُ هو وأهلُه منهما، فمَكَثْنا سنينَ قد كَفَانَا اللهُ الغُرْمَ والمَؤونَة، ليس أحدٌ من بني هاشم يضحِّي (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ﷽ [23 - ومن سورة المؤمنين]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3478 - سهيل ذو مناكير وابن عقيل ليس بالقوي_x000D_ حَدَّثَنِي أَبُو رَافِعٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ضَحَّى اشْتَرَى كَبْشَيْنِ سَمِينَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، فَإِذَا خَطَبَ وَصَلَّى ذَبَحَ أَحَدَ الْكَبْشَيْنِ بِنَفْسِهِ بِالْمُدْيَةِ، ثُمَّ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ هَذَا عَنْ أُمَّتِي جَمِيعًا مَنْ شَهِدَ لَكَ بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لِي بِالْبَلَاغِ» ، ثُمَّ أَتَى بِالْآخَرِ فَذَبَحَهُ وَقَالَ: «اللَّهُمَّ هَذَا عَنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ» ثُمَّ يُطْعِمُهُمَا الْمَسَاكِينَ وَيَأْكُلُ هُوَ وَأَهْلُهُ مِنْهُمَا فَمَكَثْنَا سِنِينَ قَدْ كَفَانَا اللَّهُ الْغُرْمَ وَالْمَئُونَةَ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ يُضَحِّي «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ»
سیدنا علی بن حسین رضی اللہ عنہ: لِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًاھُمْ نَاسِکُوْ (الحج: 67) ہر امت کے لیے ہم نے عبادت کے قاعدے بنا دیے کہ وہ ان پر چلے ۔ (کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس سے مراد) ذبیحہ ہے جس کو وہ ذبح کرتے تھے۔ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے دن دو موٹے تازے خوبصورت سینگوں والے مینڈھے منگواتے، پھر جب خطبہ دیتے اور نماز عید ادا کر لیتے تو ایک مینڈھا خود اپنے ہاتھ سے بڑی چھری کے ساتھ ذبح کرتے پھر کہتے: یا اللہ یہ میرے ہر اس امتی کی طرف سے ہے جو تیرے متعلق توحید کی گواہی اور میرے متعلق احکامِ الٰہی پہنچانے کی گواہی دے۔ پھر دوسرا مینڈھا لایا جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو بھی ذبح کرتے پھر کہتے: اے اللہ! یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے پھر ان دونوں مینڈھوں کا گوشت مساکین کو کھلا دیا جاتا اور اس میں سے آپ خود بھی کھاتے اور آپ کے اہل خانہ بھی کھاتے۔ اس کے بعد کئی سال تک اللہ تعالیٰ نے قرض اور مشقت سے ہماری کفایت فرمائی، بنی ہاشم میں کوئی ایک بھی گھر ایسا نہ تھا جنہوں نے قربانی کی ہو (کیونکہ وہ اتنے مالدار تھے ہی نہیں کہ ان پر قربانی واجب ہوتی)۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3520]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3520 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف، عبد الله بن محمد بن عقيل إنما يُعتبَر به في المتابعات والشواهد، وقد انفرد به بهذا السياق، كما أنه قد اختُلف عليه فيه ألوانًا في سنده ومتنه كما هو موضَّح في التعليق على حديث عائشة في "مسند أحمد" (41/ 25046).
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عبد اللہ بن محمد بن عقیل صرف "متابعات و شواہد" میں معتبر ہیں، اور وہ اس سیاق میں "منفرد" ہیں۔ نیز ان پر اس حدیث کی سند اور متن میں طرح طرح کا اختلاف کیا گیا ہے جیسا کہ "مسند احمد" (41/ 25046) میں حدیثِ عائشہ پر تعلیق میں وضاحت ہے۔
ثم إنَّ هذا الإسناد منقطع بين علي بن الحسين - وهو ابن علي بن أبي طالب - وبين أبي رافع مولى النبي ﷺ، وما وقع من التصريح بسماعه من هنا من أوهام ابن عقيل، فإنَّ علي بن الحسين لم يدرك أبا رافع ولعله وُلد بعدما تُوفِّي.
🔍 فنی نکتہ / علّت: پھر یہ سند علی بن حسین (زین العابدین) اور ابو رافع (مولیٰ النبی) کے درمیان "منقطع" ہے۔ یہاں سماع کی تصریح ابن عقیل کے "اوہام" میں سے ہے، کیونکہ علی بن حسین نے ابو رافع کا زمانہ نہیں پایا، شاید وہ ان کی وفات کے بعد پیدا ہوئے۔
وقد أعلَّه الذهبي في "تلخيصه" بزهير فقال: ذو مناكير، وبابن عقيل، فقال: ليس بقوي. قلنا: آفته ابن عقيل، وأما زهير فثقة وهو متابع.
⚖️ درجۂ حدیث: ذہبی نے "تلخیص" میں زہیر (ذو مناکیر) اور ابن عقیل (لیس بقوی) کو علت قرار دیا ہے۔ ہم کہتے ہیں: اصل آفت "ابن عقیل" ہے، زہیر "ثقہ" ہے اور "متابع" ہے۔
وأخرجه أحمد (45/ 27190) عن أبي عامر العقدي - وهو عبد الملك بن عمرو - بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (45/ 27190) نے ابو عامر العقدی (عبد الملک بن عمرو) سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أيضًا بنحوه (39/ 23860) من طريق شريك النخعي، و (45/ 27191) من طريق عبيد الله بن عمرو الرقي، كلاهما عن عبد الله بن محمد بن عقيل، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد نے (39/ 23860) شریک النخعی سے اور (45/ 27191) عبید اللہ بن عمرو الرقی سے، دونوں نے عبد اللہ بن محمد بن عقیل سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي عند المصنف برقم (7738) من طريق ابن عقيل عن أبي سلمة عن عائشة أو أبي هريرة. كما سيأتي من طريق ابن عقيل عن عبد الرحمن بن جابر عن أبيه جابر بن عبد الله ضمن تخريج الحديث (7744).
📝 نوٹ / توضیح: یہ مصنف کے ہاں (7738) پر ابن عقیل عن ابی سلمہ عن عائشہ (یا ابی ہریرہ) آئے گی، اور (7744) کی تخریج کے ضمن میں ابن عقیل عن عبد الرحمٰن بن جابر عن ابیہ بھی آئے گی۔
وسيأتي برقم (7745) من طريق ابن أبي رافع، عن أبيه، عن جده، قال: ذبح رسول الله ﷺ أضحيّته ثم قال: "اللهم هذا عني وعن أمتي". وانظر تمام تخريجه والكلام عليه هناك.
📝 نوٹ / توضیح: یہ (7745) پر ابن ابی رافع عن ابیہ عن جدہ کے طریق سے آئے گی کہ: "رسول اللہ ﷺ نے قربانی ذبح کی اور فرمایا: اے اللہ یہ میری اور میری امت کی طرف سے ہے"۔ تفصیل وہاں دیکھیں۔