🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
208. فضيلة المتهجدين والذاكرين الله
رات کو عبادت کرنے والوں اور اللہ کا ذکر کرنے والوں کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3551
أخبرني محمد بن موسى بن عِمْران الفقيه، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثني محمد بن سهل بن عَسكَر، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا الثَّوْري، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن عَلْقَمة، عن عبد الله: أنه دَعَا بشراب، فأُتيَ به، فقال: ناوِل القومَ، فقالوا: نحن صِيامٌ، فقال: لكن أنا لستُ بصائمٍ، ثم أَمَره فشربَه، ثم قال: ﴿يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ﴾ [النور: 37] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3509 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے مشروب منگوایا، ان کو مشروب پیش کیا گیا۔ آپ نے کہا: لوگوں کو پلاؤ، لوگوں نے جواب دیا: ہمارا روزہ ہے۔ آپ نے کہا: لیکن میرا تو روزہ نہیں ہے۔ پھر آپ نے اس کو پی لیا۔ پھر یہ آیت پڑھی: یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْہِ الْقُلُوْبُ وَالْاَبْصَارُ (النور: 37) ڈرتے ہیں اس دن سے جس میں الٹ جائیں گے دل اور آنکھیں ۔۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3551]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3551 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. إبراهيم: هو ابن يزيد النَّخعي، وعلقمة: هو ابن قيس النخعي، وعبد الله: هو ابن مسعود. وأخرجه النسائي (6816) من طريق زائدة بن قدامة، عن الأعمش، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ابراہیم سے مراد ابراہیم بن یزید نخعی، علقمہ سے مراد ابن قیس نخعی، اور عبد اللہ سے مراد عبد اللہ بن مسعود ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اور اسے نسائی (6816) نے زائدہ بن قدامہ کے طریق سے، انہوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔