المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
223. تفسير سورة العنكبوت - وتأتون فى ناديكم المنكر
سورۂ العنکبوت کی تفسیر: آیت ”اور تم اپنی مجلسوں میں برے کام کرتے ہو“ کی تشریح
حدیث نمبر: 3579
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، حدثنا موسى بن إسحاق الخَطْمي، حدثنا عبد الله بن أبي شَيْبة، حدثنا أبو أسامة، عن أبي يونس حاتم بن أبي صَغِيرة، عن سِمَاك بن حَرْب، عن أبي صالح، عن أم هانئ قالت: سألتُ النبيَّ ﷺ عن قوله ﷿: ﴿وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ﴾ [العنكبوت: 29] ، قال:"كانوا يَخذِفُون أهلَ الطريقِ ويَسخَرون منهم، فهو المُنكَرُ الذي كانوا يَأتُونَ" (1) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3537 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3537 - على شرط البخاري ومسلم
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد: وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْکُمُ الْمُنْکَرَ (العنکبوت: 29) ” اور اپنی مجلس میں بری بات کرتے ہو “۔ کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: وہ راہگیروں کو کنکریاں مارا کرتے تھے اور ان سے ٹھٹھا کرتے تھے، یہ تھی وہ بری باتیں جو وہ کیا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3579]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3579 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لضعف أبي صالح: وهو مولى أم هانئ واسمه باذام، ويقال: باذان. أبو أسامة: هو حماد بن أسامة.
⚖️ درجۂ حدیث: ابو صالح کے ضعف کی وجہ سے یہ سند "ضعیف" ہے۔ ابو صالح ام ہانی کے غلام ہیں، ان کا نام باذام (یا باذان) ہے۔ ابو اسامہ سے مراد حماد بن اسامہ ہیں۔
وأخرجه أحمد (44/ 26891) و (45/ 27383) عن أبي أسامة - وقرن به في الموضع الأول رَوحَ بنَ عبادة - بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (44/ 26891 اور 45/ 27383) نے ابو اسامہ سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے، اور پہلی جگہ ان کے ساتھ "روح بن عبادہ" کو بھی ملایا ہے۔
وأخرجه الترمذي (3190) عن محمود بن غيلان، عن أبي أسامة وعبد الله بن بكر السهمي، به. وحسَّنه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (3190) نے محمود بن غیلان سے، انہوں نے ابو اسامہ اور عبد اللہ بن بکر سہمی سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے، اور اسے "حسن" قرار دیا ہے۔
وسيأتي عند المصنف برقم (7954).
📝 نوٹ / توضیح: یہ مصنف کے ہاں آگے نمبر (7954) پر آئے گی۔
والخَذْف: هو رمي الحصى الصِّغار بأطراف الأصابع.
📝 نوٹ / توضیح: "الخذف" کا مطلب ہے: انگلیوں کے پوروں سے چھوٹی کنکریاں پھینکنا۔