المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
238. " أحب أهلي إلى فاطمة "
میرے اہلِ خانہ میں مجھے سب سے زیادہ محبوب فاطمہ ہے
حدیث نمبر: 3604
حدثنا علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا هشام بن علي السَّدُوسي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا أبو عَوَانة، أخبرني عمر بن أبي سَلَمة، عن أبيه قال: حدثني أسامة بن زيد قال: كنتُ في المسجد فأتاني العبَّاسُ وعليٌّ فقالا لي: يا أسامةُ، استأذِنْ لنا على رسول الله ﷺ، فدخلتُ على النبي ﷺ فاستأذنتُه فقلت له: إنَّ العبَّاس وعليًّا يستأذِنانِ، قال:"هل تدري ما حاجَتُهما؟" قلت: لا والله ما أَدري، قال:"لكنِّي أَدْري، ائذَنْ لهما" فدخلا عليه، فقالا: يا رسول الله، جئناك نسألُك: أيُّ أهلِك أحبُّ إليك؟ قال:"أَحبُّ أهلي إليَّ فاطمةُ بنتُ محمدٍ" فقالا: يا رسول الله، ليس نسألُك عن فاطمةَ، قال:"فأسامةُ بنُ زيدٍ الذي أَنْعَمَ اللهُ عليه وأَنعمتُ عليه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3562 - عمر بن أبي سلمة ضعيف
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3562 - عمر بن أبي سلمة ضعيف
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں مسجد میں تھا کہ میرے پاس سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے اور مجھ سے کہنے لگے: اے اسامہ رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارے لیے اجازت مانگو، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور ان کے لیے اجازت طلب کی: میں نے عرض کی: عباس رضی اللہ عنہ اور علی رضی اللہ عنہ آپ کے پاس حاضر ہونے کی اجازت مانگ رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ کس کام سے آئے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں خدا کی قسم مجھے معلوم نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہرحال میں جانتا ہوں۔ تم ان کو اندر آنے دو۔ چنانچہ وہ دونوں آپ کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ کی بارگاہ میں یہ پوچھنے کے لیے حاضر ہوئے ہیں کہ آپ گھر والوں میں کس کے ساتھ سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ بنت محمد رضی اللہ عنہا سے۔ انہوں نے کہا: ہم آپ سے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے متعلق نہیں پوچھ رہے (بلکہ ان کے علاوہ بتایئے) آپ نے فرمایا: اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے، جس پر اللہ تعالیٰ نے بھی انعام فرمایا ہے اور میں نے بھی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3604]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3604 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لتفرُّد عمر بن أبي سلمة به ففيه ضعيف، والراجح فيه أنه يقتل من حديثه ما توبع عليه، وقد ضعَّف الذهبي في "تلخيصه".
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے کیونکہ اس میں "عمر بن ابی سلمہ" منفرد ہیں اور وہ ضعیف ہیں۔ ان کے بارے میں راجح یہ ہے کہ ان کی وہی حدیث قبول کی جاتی ہے جس پر ان کی متابعت کی گئی ہو۔ ذہبی نے "التلخیص" میں اسے ضعیف کہا ہے۔
وأخرجه الترمذي (3819) عن أحمد بن الحسن، عن موسى بن إسماعيل، بهذا الإسناد. وقال: حديث حسن، وكان شعبة يضعِّف عمر بن أبي سلمة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (3819) نے احمد بن حسن سے، انہوں نے موسیٰ بن اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے، اور اسے "حسن" کہا ہے۔ حالانکہ شعبہ "عمر بن ابی سلمہ" کی تضعیف کرتے تھے۔
وسيأتي مختصرًا بآخره برقم (6674).
📝 نوٹ / توضیح: یہ حدیث آگے مختصراً اس کے آخری حصے کے ساتھ نمبر (6674) پر آئے گی۔