🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
244. أكثروا على الصلاة فى يوم الجمعة
جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3620
أخبرنا أبو الحسين علي بن عبد الرحمن بن عيسى السَّبِيعي بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزَة، حدثنا قَبِيصة بن عُقْبة، حدثنا سفيان، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن الطُّفيل بن أُبيِّ بن كعب، عن أُبيِّ بن كعب قال: كان رسول الله ﷺ إذا ذهب رُبعُ الليل قام، فقال:"يا أيُّها الناس، اذكُروا الله، يا أيُّها الناس، اذكُروا الله، جاءت الراجفةُ تَتْبعُها الرادفةُ، جاء الموتُ بما فيه، جاء الموتُ بما فيه". فقال أبيُّ بن كعب: يا رسول الله، إني أُكثِرُ الصلاةَ عليك، فكم أجعلُ لك منها؟ قال:"ما شئتَ" قال: الرُّبعَ؟ قال:"ما شئتَ، وإن زدتَ فهو خيرٌ" قال: النصفَ؟ قال:"ما شئتَ، وإن زدتَ فهو خيرٌ" قال: الثُّلثين؟ قال:"ما شئتَ، وإن زدتَ فهو خيرٌ" قال: يا رسول الله، أجعلُها كلَّها لك؟ قال:"إذًا تُكفَى ما هَمَّكَ، ويُغفَرَ لكَ ذَنْبُك" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3578 - صحيح
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی یہ عادت تھی کہ) جب رات کا ایک چوتھائی حصہ گزر جاتا تو آپ کھڑے ہو جاتے اور فرماتے: اے لوگو! اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو، اے لوگو! اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو، اے لوگو! اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو تھرتھرانے والی آ گئی، اس کے پیچھے آئے گی آنے والی۔ موت آ گئی ان تکلیفوں کے ساتھ جو اس میں ہیں، موت آ گئی ان تکلیفوں کے ساتھ جو ان میں ہیں۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ پر کثرت سے درود پڑھتا ہوں۔ میں رات کا کتنا حصہ اس کے لیے وقف کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جتنا تو چاہے۔ انہوں نے کہا: ایک چوتھائی (کافی ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری مرضی اور اگر تو اس میں اضافہ کر لے تو یہ تیرے لیے بہتر ہے۔ انہوں نے کہا: آدھی رات کافی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری مرضی۔ لیکن اگر تو اس میں اضافہ کر لے تو یہ تیرے لیے بہتر ہے۔ انہوں نے کہا: دو تہائی کافی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری مرضی لیکن اگر تو اس میں اور بھی اضافہ کر لے تو تیرے لیے بہتر ہو گا۔ انہوں نے کہا: میں تمام رات آپ کے لیے وقف کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تو تیری تمام حاجات پوری ہوں گی اور تیرے گناہ بخش دیے جائیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3620]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3620 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن في المتابعات والشواهد من أجل عبد الله بن محمد بن عقيل، وقد جاء ما يشهد للشطر الثاني من حديثه. سفيان: هو الثوري.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند "عبد اللہ بن محمد بن عقیل" کی وجہ سے متابعات اور شواہد میں "حسن" ہے، اور حدیث کے دوسرے حصے کے لیے شاہد بھی موجود ہے۔ سفیان سے مراد ثوری ہیں۔
وأخرجه الترمذي (2457) عن هناد بن السري، عن قبيصة بن عقبة، بهذا الإسناد. وقال: حديث حسن.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (2457) نے ہناد بن سری سے، انہوں نے قبیصہ بن عقبہ سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے، اور اسے "حسن" کہا ہے۔
وأخرجه مختصرًا أحمد (35/ 21241) و (21242) عن وكيع، عن سفيان الثوري، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مختصراً احمد (35/ 21241 و 21242) نے وکیع سے، انہوں نے سفیان ثوری سے اسی طرح تخریج کیا ہے۔
وسيأتي برقم (3938) و (8049).
📝 نوٹ / توضیح: یہ آگے نمبر (3938) اور (8049) پر آئے گی۔
ويشهد لشطره الثاني مرسل يعقوب بن زيد بن طلحة التيمي عن النبي ﷺ عند عبد الرزاق في "مصنفه" (3114)، وإسماعيل القاضي في "فضل الصلاة على النبي" (13). ورجاله ثقات.
🧩 متابعات و شواہد: اس کے دوسرے حصے کا شاہد یعقوب بن زید بن طلحہ تیمی کا "مرسل" ہے جو عبد الرزاق (المصنف 3114) اور اسماعیل قاضی (فضل الصلاۃ 13) کے ہاں ہے، اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔
وحديث حبان بن منقذ عند ابن أبي عاصم في "الصلاة على النبي" (60)، والطبراني في "الكبير" (3574). وإسناده ضعيف، وحسّنه الهيثمي في "مجمع الزوائد" 10/ 160.
🧩 متابعات و شواہد: اور حبان بن منقذ کی حدیث (ابن ابی عاصم 60، طبرانی 3574) بھی شاہد ہے، جس کی سند "ضعیف" ہے، البتہ ہیثمی نے مجمع الزوائد (10/ 160) میں اسے حسن کہا ہے۔
وحديث أبي هريرة عند ابن أبي عاصم أيضًا (59)، والبزار (8911). وإسناده ضعيف.
🧩 متابعات و شواہد: اور ابو ہریرہ کی حدیث (ابن ابی عاصم 59، بزار 8911) بھی شاہد ہے، جس کی سند "ضعیف" ہے۔