المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
244. أَكْثِرُوا عَلَيَّ الصَّلَاةَ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ
جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو
حدیث نمبر: 3619
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أحمد (2) بن علي الأبّار، حدثنا أحمد بن عبد الرحمن بن بكَّار الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثني أبو رافع، عن سعيد المَقبُري، عن أبي مسعود الأنصاري، عن النبي ﷺ قال:"أكثروا الصلاةَ عليَّ في يوم الجُمُعة، فإنه ليس يُصلِّي عليَّ أحدٌ يومَ الجُمعة إلَّا عُرِضَت عليَّ صلاتُه" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ أبا رافع هذا هو إسماعيل بن رافع، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3577 - إسماعيل بن رافع أبو رافع ضعفوه
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ أبا رافع هذا هو إسماعيل بن رافع، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3577 - إسماعيل بن رافع أبو رافع ضعفوه
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو کیونکہ جمعہ کے دن جو بھی مجھ پر درود پڑھتا ہے وہ مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رضی اللہ عنہ اور امام مسلم رضی اللہ عنہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ یہ ابورافع اسماعیل بن رافع ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3619]
حدیث نمبر: 3620
أخبرنا أبو الحسين علي بن عبد الرحمن بن عيسى السَّبِيعي بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزَة، حدثنا قَبِيصة بن عُقْبة، حدثنا سفيان، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن الطُّفيل بن أُبيِّ بن كعب، عن أُبيِّ بن كعب قال: كان رسول الله ﷺ إذا ذهب رُبعُ الليل قام، فقال:"يا أيُّها الناس، اذكُروا الله، يا أيُّها الناس، اذكُروا الله، جاءت الراجفةُ تَتْبعُها الرادفةُ، جاء الموتُ بما فيه، جاء الموتُ بما فيه". فقال أبيُّ بن كعب: يا رسول الله، إني أُكثِرُ الصلاةَ عليك، فكم أجعلُ لك منها؟ قال:"ما شئتَ" قال: الرُّبعَ؟ قال:"ما شئتَ، وإن زدتَ فهو خيرٌ" قال: النصفَ؟ قال:"ما شئتَ، وإن زدتَ فهو خيرٌ" قال: الثُّلثين؟ قال:"ما شئتَ، وإن زدتَ فهو خيرٌ" قال: يا رسول الله، أجعلُها كلَّها لك؟ قال:"إذًا تُكفَى ما هَمَّكَ، ويُغفَرَ لكَ ذَنْبُك" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3578 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3578 - صحيح
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی یہ عادت تھی کہ) جب رات کا ایک چوتھائی حصہ گزر جاتا تو آپ کھڑے ہو جاتے اور فرماتے: اے لوگو! اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو، اے لوگو! اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو، اے لوگو! اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو “ تھرتھرانے والی آ گئی، اس کے پیچھے آئے گی آنے والی۔ موت آ گئی ان تکلیفوں کے ساتھ جو اس میں ہیں، موت آ گئی ان تکلیفوں کے ساتھ جو ان میں ہیں۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ پر کثرت سے درود پڑھتا ہوں۔ میں رات کا کتنا حصہ اس کے لیے وقف کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جتنا تو چاہے۔ انہوں نے کہا: ایک چوتھائی (کافی ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری مرضی اور اگر تو اس میں اضافہ کر لے تو یہ تیرے لیے بہتر ہے۔ انہوں نے کہا: آدھی رات کافی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری مرضی۔ لیکن اگر تو اس میں اضافہ کر لے تو یہ تیرے لیے بہتر ہے۔ انہوں نے کہا: دو تہائی کافی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری مرضی لیکن اگر تو اس میں اور بھی اضافہ کر لے تو تیرے لیے بہتر ہو گا۔ انہوں نے کہا: میں تمام رات آپ کے لیے وقف کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تو تیری تمام حاجات پوری ہوں گی اور تیرے گناہ بخش دیے جائیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3620]