🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
251. أَحْكَامُ الظَّالِمِ لِنَفْسِهِ وَالْمُقْتَصِدِ وَالسَّابِقِ بِالْخَيْرَاتِ
اپنے نفس پر ظلم کرنے والے، میانہ روی اختیار کرنے والے اور نیکیوں میں سبقت لے جانے والوں کے احکام
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3635
فأخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق في"مسند مسدَّد بن مُسرهَد": أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مسدَّد، حدثنا المعتمِر بن سليمان، حدثني أبو شعيب الصَّلْت بن عبد الرحمن، حدثني عُقْبة بن صُهْبان الحُدَّاني (3) قال: قلت لعائشة: يا أُمَّ المؤمنين، أرأيتِ قولَ الله ﷿: ﴿ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّهِ ذَلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ﴾ [فاطر: 32] ؟ فقالت عائشة: أما السابقُ: فمَن مَضَى في حياة رسول الله ﷺ فَشَهِدَ له بالحياة والرِّزق، وأما المقتصِدُ: فمن اتَّبع آثارَهم فعَمِلَ بأعمالهم حتى يَلحَقَ بهم، وأما الظالمُ لنفسه: فمِثْلي ومِثلُك ومَن اتَّبَعَنا، وكلٌّ في الجنة (4) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3593 - الصلت قال النسائي ليس بثقة وقال أحمد ليس بالقوي
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، عقبہ بن صہبان حدانی کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی: اے ام المومنین! اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّهِ ذَلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ﴾ [سورة فاطر: 32] کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جہاں تک «سابق» (سبقت لے جانے والوں) کا تعلق ہے تو یہ وہ ہستیاں ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں ہی وفات پا گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جنتی ہونے اور (وہاں) رزق پانے کی گواہی دی۔ رہے «مقتصد» (درمیانی راہ والے) تو یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان (سابقین) کے نقشِ قدم کی پیروی کی اور ان جیسے اعمال کیے یہاں تک کہ ان سے جا ملے، اور جہاں تک اپنی جان پر ظلم کرنے والے کا تعلق ہے تو اس سے مراد مجھ جیسی، آپ جیسی اور ہماری پیروی کرنے والے لوگ ہیں، اور یہ سب کے سب جنت میں ہوں گے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3635]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا من أجل أبي شعيب، واسمه الصلت بن دينار وليس الصلت بن عبد الرحمن كما وقع عند المصنف. وقد أشار الذهبي في "تلخيصه" إلى ضعف أبي شعيب هذا. أبو المثنى: هو معاذ بن المثنى بن معاذ العنبري.» [ترقيم الرساله 3635] [ترقيم الشركة 3614] [ترقيم العلميه 3593]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا من أجل أبي شعيب

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3635 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: الحراني، بالراء، والتصويب من مصادر ترجمته.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ تحریف ہو کر "حرانی" (راء کے ساتھ) بن گیا ہے، درست مصادر سے ثابت کیا گیا ہے۔
(4) إسناده ضعيف جدًّا من أجل أبي شعيب، واسمه الصلت بن دينار وليس الصلت بن عبد الرحمن كما وقع عند المصنف. وقد أشار الذهبي في "تلخيصه" إلى ضعف أبي شعيب هذا. أبو المثنى: هو معاذ بن المثنى بن معاذ العنبري.
⚖️ درجۂ حدیث: "ابو شعیب" (صلت بن دینار) کی وجہ سے یہ سند "سخت ضعیف" ہے، مصنف نے غلطی سے صلت بن عبد الرحمن لکھا۔ ذہبی نے "التلخیص" میں اس کے ضعف کی طرف اشارہ کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ابو مثنیٰ سے مراد معاذ بن مثنیٰ بن معاذ عنبری ہیں۔
وأخرجه الطبراني في "الأوسط" (6094) من طريق علي بن الحسين الدرهمي، عن معتمر بن سليمان، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الاوسط" (6094) میں علی بن حسین درہمی کے طریق سے، معتمر بن سلیمان سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه أبو داود الطيالسي في "مسنده" (1592) عن الصلت بن دينار، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو داود طیالسی نے "مسند" (1592) میں صلت بن دینار سے تخریج کیا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 3635 in Urdu