🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

251. أَحْكَامُ الظَّالِمِ لِنَفْسِهِ وَالْمُقْتَصِدِ وَالسَّابِقِ بِالْخَيْرَاتِ
اپنے نفس پر ظلم کرنے والے، میانہ روی اختیار کرنے والے اور نیکیوں میں سبقت لے جانے والوں کے احکام
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3634
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرير، حدثني الأعمش، عن رجل قد سمَّاه، عن أبي الدرداء قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول في قوله ﷿: ﴿فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ﴾ [فاطر: 32] ، قال:"السابقُ والمقتصدُ يَدخُلان الجنةَ بغير حساب، والظالمُ لنفسه يُحاسَب حسابًا يسيرًا ثم يَدخُلُ الجنةَ" (1) . وقد اختَلَفت الرواياتُ عن الأعمش في إسناد هذا الحديث، فرُوِيَ عن الثَّوْري عن الأعمش قال: ذكر أبو ثابت عن أبي الدرداء، وقيل: عن الثَّوري عن الأعمش عن أبي ثابت عن أبي الدرداء، وقيل: عن شُعْبة عن الأعمش عن رجل من ثَقِيف عن أبي الدرداء، وإذا كَثُرَت الرواياتُ في الحديث ظَهَرَ أنَّ للحديث أصلًا (2) .
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: فَمِنْھُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ وَ مِنْھُمْ مُّقْتَصِدٌ وَ مِنْھُمْ سَابِقٌ بِالْخَیْرٰتِ (فاطر: 32) تو ان میں کوئی اپنی جان پر ظلم کرتا ہے اور ان میں کوئی میانہ چال پر ہے، اور ان میں کوئی وہ ہے جو اللہ کے حکم سے بھلائیوں میں سبقت لے گیا ۔ کے متعلق فرمایا: سابق (مخلص مومن) اور مقتصد (میانہ روی کرنے والا) دونوں بلا حساب جنت میں جائیں گے اور ظالم للنفسہ (جو نعمت الٰہی کا منکر تو نہ ہو لیکن شکر نہ بجا لائے) کا کچھ آسان سا حساب لیا جائے گا پھر اس کو بھی جنت میں بھیج دیا جائے گا۔ ٭٭ اس حدیث کی سند میں اعمش رضی اللہ عنہ سے مختلف روایات منقول ہیں (ایک سند یوں ہے): (عَنِ الثَّوْرِیِّ، عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ اَبِیْ ثَابِتٍ، عَنْ اَبِیْ الدَّرْدَائِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ) (ایک سند یوں ہے): (عَنْ شُعْبَۃَ، عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِیفٍ، عَنْ اَبِیْ الدَّرْدَاء) اور یہی سند ثوری کے واسطے سے بھی اعمش سے منقول ہے، انہوں نے ابوثابت کے واسطے سے ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ جب اس حدیث کی سندیں متعدد ہیں تو اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس حدیث کی کوئی اصل لازمی موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3634]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3635
فأخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق في"مسند مسدَّد بن مُسرهَد": أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مسدَّد، حدثنا المعتمِر بن سليمان، حدثني أبو شعيب الصَّلْت بن عبد الرحمن، حدثني عُقْبة بن صُهْبان الحُدَّاني (3) قال: قلت لعائشة: يا أُمَّ المؤمنين، أرأيتِ قولَ الله ﷿: ﴿ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّهِ ذَلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ﴾ [فاطر: 32] ؟ فقالت عائشة: أما السابقُ: فمَن مَضَى في حياة رسول الله ﷺ فَشَهِدَ له بالحياة والرِّزق، وأما المقتصِدُ: فمن اتَّبع آثارَهم فعَمِلَ بأعمالهم حتى يَلحَقَ بهم، وأما الظالمُ لنفسه: فمِثْلي ومِثلُك ومَن اتَّبَعَنا، وكلٌّ في الجنة (4) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3593 - الصلت قال النسائي ليس بثقة وقال أحمد ليس بالقوي
سیدنا عقبہ بن صہبان حرانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اے ام المومنین رضی اللہ عنہا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے: ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْکِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْھُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ وَ مِنْھُمْ مُّقْتَصِدٌ وَ مِنْھُمْ سَابِقٌ بِالْخَیْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰہِ ذٰلِکَ ھُوَ الْفَضْلُ الْکَبِیْرُ (فاطر: 32) پھر ہم نے کتاب کا وارث کیا اپنے چنے ہوئے بندوں کو تو ان میں کوئی اپنی جان پر ظلم کرتا ہے اور ان میں کوئی میانہ چال پر ہے، اور ان میں کوئی وہ ہے جو اللہ کے حکم سے بھلائیوں میں سبقت لے گیا یہی بڑا فضل ہے ۔ (،) تو ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: سابق وہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں تھے اور آپ نے ان کے لیے زندگی اور رزق کی گواہی دی۔ (یعنی جنت کی بشارت دی) اور مقتصد وہ اصحاب ہیں جو آپ کے طریقہ پر عامل رہے اور ظالم لنفسہ ہم تم جیسے لوگ ہیں جو ہماری اتباع کریں گے لیکن بہرحال سب جنت میں جائیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3635]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3636
حدثني أبو علي الحسن بن علي بن داود المطرِّز المِصري بمكة، حدثنا العبَّاس بن محمد بن العبَّاس المِصري، حدثنا عمرو بن سَوّاد السَّرْحي، حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن أبي السَّمْح، عن أبي الهيثم، عن أبي سعيد الخُدْري: أنَّ النبي ﷺ تَلَا قولَ الله ﷿: ﴿جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ﴾ [فاطر: 33] فقال:"إنَّ عليهم التِّيجانَ، إِنَّ أَدنى لؤلؤةٍ فيها لَتُضيءُ ما بين المشرقِ والمغربِ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، كما حدَّثَناه أبو العبَّاس عن الدُّوري عن يحيى بن مَعِين أنه قال: أصحُّ إسناد المِصريّين عمرٌو عن درَّاج عن أبي الهيثم عن أبي سعيد (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3594 - صحيح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَھَا یُحَلَّوْنَ فِیْھَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَھَبٍ (فاطر: 33) بسنے کے باغوں میں داخل ہوں گے وہ ان میں سونے کے موتی اور کنگن پہنائے جائیں گے ۔ پھر فرمایا: ان پر ایسے تاج ہوں گے کہ ان کے ادنیٰ سے ادنیٰ موتی کی شان یہ ہو گی کہ وہ مشرق سے مغرب تک پوری دنیا کو روشن کر دے ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ ابوعباس رضی اللہ عنہ نے دوری کے حوالے سے یحیی بن معین کا یہ بیان نقل کیا ہے مصریین کی سب سے صحیح اسناد یہ (درج ذیل) ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3636]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں