المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
251. أحكام الظالم لنفسه والمقتصد والسابق بالخيرات
اپنے نفس پر ظلم کرنے والے، میانہ روی اختیار کرنے والے اور نیکیوں میں سبقت لے جانے والوں کے احکام
حدیث نمبر: 3636
حدثني أبو علي الحسن بن علي بن داود المطرِّز المِصري بمكة، حدثنا العبَّاس بن محمد بن العبَّاس المِصري، حدثنا عمرو بن سَوّاد السَّرْحي، حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن أبي السَّمْح، عن أبي الهيثم، عن أبي سعيد الخُدْري: أنَّ النبي ﷺ تَلَا قولَ الله ﷿: ﴿جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ﴾ [فاطر: 33] فقال:"إنَّ عليهم التِّيجانَ، إِنَّ أَدنى لؤلؤةٍ فيها لَتُضيءُ ما بين المشرقِ والمغربِ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، كما حدَّثَناه أبو العبَّاس عن الدُّوري عن يحيى بن مَعِين أنه قال: أصحُّ إسناد المِصريّين عمرٌو عن درَّاج عن أبي الهيثم عن أبي سعيد (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3594 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، كما حدَّثَناه أبو العبَّاس عن الدُّوري عن يحيى بن مَعِين أنه قال: أصحُّ إسناد المِصريّين عمرٌو عن درَّاج عن أبي الهيثم عن أبي سعيد (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3594 - صحيح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَھَا یُحَلَّوْنَ فِیْھَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَھَبٍ (فاطر: 33) ” بسنے کے باغوں میں داخل ہوں گے وہ ان میں سونے کے موتی اور کنگن پہنائے جائیں گے “۔ پھر فرمایا: ان پر ایسے تاج ہوں گے کہ ان کے ادنیٰ سے ادنیٰ موتی کی شان یہ ہو گی کہ وہ مشرق سے مغرب تک پوری دنیا کو روشن کر دے “۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ ابوعباس رضی اللہ عنہ نے دوری کے حوالے سے یحیی بن معین کا یہ بیان نقل کیا ہے مصریین کی ” سب سے صحیح اسناد “ یہ (درج ذیل) ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3636]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3636 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لضعف رواية أبي السَّمح - وهو درَّاج - عن أبي الهيثم: وهو سليمان بن عمرو العُتْواري.
⚖️ درجۂ حدیث: "ابو سمح" (دراج) کی "ابو ہیثم" (سلیمان بن عمرو عتواری) سے روایت کے ضعف کی وجہ سے یہ سند "ضعیف" ہے۔
وأخرجه ابن حبان (7397) من طريق حرملة بن يحيى، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد - بأطول ممّا هنا ودون ذكر الآية.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (7397) نے حرملہ بن یحییٰ کے طریق سے، انہوں نے عبد اللہ بن وہب سے اسی سند کے ساتھ (یہاں سے زیادہ طویل اور آیت کے ذکر کے بغیر) تخریج کیا ہے۔
وأخرجه الترمذي (2562/ 2) من طريق رشدين بن سعد، عن عمرو بن الحارث، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (2562/ 2) نے رشدین بن سعد کے طریق سے، انہوں نے عمرو بن حارث سے اسی طرح تخریج کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (18/ 11715) من طريق عبد الله بن لهيعة، عن درّاج أبي السمح، به مطولًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (18/ 11715) نے عبد اللہ بن لہیعہ کے طریق سے، انہوں نے دراج ابو سمح سے طویل صورت میں تخریج کیا ہے۔
وانظر ما سيأتي برقم (3816).
📝 نوٹ / توضیح: اور جو آگے نمبر (3816) پر آئے گا، اسے دیکھیں۔
(2) هذا من تساهل يحيى بن معين ﵀، بل أثبت أسانيد المصريين وأصحها: الليث بن سعد عن يزيد بن أبي حبيب عن أبي الخير عن عقبة بن عامر، كما قال الحاكم نفسه في كتابه "معرفة علوم الحديث" ص 56، وعليه مشى جمهور من اعتنى وصنف في هذا الفن.
🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کا تساہل ہے، بلکہ مصریوں کی سب سے زیادہ مضبوط اور صحیح سند یہ ہے: "لیث بن سعد عن یزید بن ابی حبیب عن ابی الخیر عن عقبہ بن عامر"، جیسا کہ خود حاکم نے اپنی کتاب "معرفۃ علوم الحدیث" (ص 56) میں کہا ہے، اور اسی پر ان جمہور اہل فن کا عمل ہے جنہوں نے اس فن میں تصنیف کی۔