المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
275. إن أول من يتكلم يوم القيامة من الآدمي فخذه وكفه
قیامت کے دن انسان کے اعضاء میں سب سے پہلے ران اور ہتھیلی کلام کریں گے
حدیث نمبر: 3687
حدَّثَناه أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحسن بن موسى الأشيَب، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، أخبرنا أبو قَزَعة الباهلي، عن حَكيم بن معاوية، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ:"تُحشَرون ها هنا - وأَومأَ بيده إلى الشام - مُشاةً ورُكْبانًا وعلى وجوهِكم، وتُعرَضون على الله وعلى أفواهِكم الفِدَامُ، وإنَّ أولَ ما يُعرِبُ عن أحدكم فَخِذُه"، وتلا رسولُ الله ﷺ: ﴿وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ﴾ [فصلت: 22] (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3646 - أبو قزعة سويد بن حجير ثقة
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3646 - أبو قزعة سويد بن حجير ثقة
حکیم بن معاویہ رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم یہاں پر جمع کیے جاؤ گے، یہ کہتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملک شام کی طرف اشارہ کیا (کچھ) پیدل (کچھ) سوار (اور کچھ) منہ کے بل ہوں گے۔ تمہیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیا جائے گا، اس وقت تمہارے منہ پر فدام ہو گا اور تمہارے اعضاء میں سے سب سے پہلے ران بولے گی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «وَ مَا کُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یّشْھَدَ عَلَیْکُمْ سَمْعُکُمْ وَ لَآ اَبْصَارُکُمْ وَ لَا جُلُوْدُکُمْ) (حم السجدۃ: 22) ” اور تم اس سے کہاں چھپ کر جاتے کہ تم پر گواہی دیں تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3687]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3687 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) إسناده حسن كسابقه. أبو قزعة: هو سُوَيد بن حُجير. وأخرجه بأطول ممّا هنا أحمد (33/ 20022) عن عفان بن مسلم، عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد - ولم يذكر فيه التلاوة.
⚖️ درجۂ حدیث: پچھلی سند کی طرح یہ بھی "حسن" ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ابو قزعہ سے مراد سوید بن حجیر ہیں۔ اسے احمد (33/ 20022) نے عفان بن مسلم سے، انہوں نے حماد بن سلمہ سے اسی سند کے ساتھ (یہاں سے زیادہ طویل اور تلاوت کے بغیر) تخریج کیا ہے۔
وأخرجه كذلك أحمد أيضًا (20011)، والنسائي (11367) من طريق شِبل بن عبّاد، عن أبي قزعة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (20011) اور نسائی (11367) نے شبل بن عباد کے طریق سے ابو قزعہ سے اسی طرح تخریج کیا ہے۔
وانظر ما قبله، وسيأتي أوله فقط في قصة الحشر برقم (8900) من طريق بهز بن حكيم عن أبيه.
📝 نوٹ / توضیح: ماقبل دیکھیں۔ اس کا صرف پہلا حصہ (حشر کے قصے میں) آگے نمبر (8900) پر بہز بن حکیم عن ابیہ کے طریق سے آئے گا۔