🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

275. إِنَّ أَوَّلَ مَنْ يَتَكَلَّمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْآدَمِيِّ فَخِذُهُ وَكَفُّهُ
قیامت کے دن انسان کے اعضاء میں سب سے پہلے ران اور ہتھیلی کلام کریں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3686
أخبرني أبو بكر محمد بن إبراهيم البزَّازُ ببغداد، حدثنا محمد بن مَسلَمة (2) ، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا سعيد بن إياس، عن حَكِيم بن معاوية بن حَيْدَة، عن أبيه، عن النبي ﷺ قال:"يَجيئُون يومَ القيامةِ وعلى أفواهِهِم الفِدَامُ، وإنَّ أولَ ما يتكلَّمُ من الآدميِّ فَخِذُه وكفُّه" (3) .
هذا حديث مشهورٌ ببَهْز بن حَكِيم عن أبيه، وقد تابعه الجُرَيري، فرواه عن حَكِيم بن معاوية وصحَّ به الحديثُ، ولم يُخرجاه. وقد رواه أبو قَزَعة الباهليُّ أيضًا عن حَكِيم بن معاوية:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3645 - تابعه بهز بن حكيم عن أبيه صحيح
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگ قیامت میں ایسی حالت میں آئیں گے کہ ان کے منہ پر فدام ہو گا اور انسان کے اعضاء میں سب سے پہلے اس کے ران اور ہاتھ بات کریں گے۔ (نوٹ: فدام اس کپڑے کو کہتے جو پانی کے جگ پر پانی چھاننے کے لئے باندھا جاتا ہے، یہاں پر فدام سے مراد یہ ہے کہ ان کے منہ پر ایسی چیز باندھ دی جائے گی جس کی وجہ سے وہ بول نہیں سکیں گے۔) ٭٭ یہ حدیث بہز بن حکیم رحمۃ اللہ علیہ سے ان کے والد کے حوالے سے مشہور ہے جبکہ جریری نے بھی ان کی متابعت کی ہے انہوں نے اس کو حکیم بن معاویہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے اور اس سند کے ہمراہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ جبکہ ابوقزعہ الباہلی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس کو حکیم بن معاویہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے۔ جیسا کہ درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3686]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3687
حدَّثَناه أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحسن بن موسى الأشيَب، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، أخبرنا أبو قَزَعة الباهلي، عن حَكيم بن معاوية، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ:"تُحشَرون ها هنا - وأَومأَ بيده إلى الشام - مُشاةً ورُكْبانًا وعلى وجوهِكم، وتُعرَضون على الله وعلى أفواهِكم الفِدَامُ، وإنَّ أولَ ما يُعرِبُ عن أحدكم فَخِذُه"، وتلا رسولُ الله ﷺ: ﴿وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ﴾ [فصلت: 22] (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3646 - أبو قزعة سويد بن حجير ثقة
حکیم بن معاویہ رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم یہاں پر جمع کیے جاؤ گے، یہ کہتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملک شام کی طرف اشارہ کیا (کچھ) پیدل (کچھ) سوار (اور کچھ) منہ کے بل ہوں گے۔ تمہیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیا جائے گا، اس وقت تمہارے منہ پر فدام ہو گا اور تمہارے اعضاء میں سے سب سے پہلے ران بولے گی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «وَ مَا کُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یّشْھَدَ عَلَیْکُمْ سَمْعُکُمْ وَ لَآ اَبْصَارُکُمْ وَ لَا جُلُوْدُکُمْ) (حم السجدۃ: 22) اور تم اس سے کہاں چھپ کر جاتے کہ تم پر گواہی دیں تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3687]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3688
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا أبو المثنَّى ومحمد بن أيوب قالا: حدثنا محمد بن كَثير العَبْدي، حدثنا سفيان، عن سَلَمة بن كُهيل، عن مالك بن حُصَين بن عُقْبة الفَزَاري، عن أبيه، عن علي بن أبي طالب؛ سُئِلَ عن قول الله ﷿: ﴿رَبَّنَا أَرِنَا اللَّذَيْنِ أَضَلَّانَا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ﴾ [فصلت: 29] ، قال: ابنُ آدمَ الذي قَتَل أخاه، وإبليسُ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3647 - صحيح
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد: رَبَّنَآ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ (حم السجدۃ: 29) اے ہمارے رب ہمیں دکھا وہ دونوں جن اور آدمی جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا۔ کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: اس سے مراد شیطان اور آدم علیہ السلام کا وہ بیٹا ہے جس نے اپنے بھائی کو قتل کیا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3688]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3689
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا عبد الله بن إدريس، أخبرنا أبو إسحاق الشَّيباني، عن أبي بكر بن أبي موسى، عن الأسود بن هلال، عن أبي بكر الصِّدِّيق قال: ما تقولون في قوله ﷿: ﴿إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا﴾ [فصلت: 30] ، وقوله: ﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ﴾ [الأنعام: 82] ؟ فقالوا: ﴿الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا﴾ فلم يَلتفِتوا، ﴿وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ﴾: بخطيئةٍ، فقال أبو بكر: حَمَلتُموها على غير وجهِ المَحمَل (2) : ﴿ثُمَّ اسْتَقَامُوا﴾ ولم يَلتفِتوا إلى إلهٍ غيرِه ﴿وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ﴾ أي: بشِرْك (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3648 - صحيح
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے متعلق تمہارا کیا موقف ہے؟ اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا (فصّلت: 30) بیشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے۔ اور اس ارشاد کے متعلق تمہارا کیا موقف ہے؟ اَلَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْآ اِیْمَانَھُمْ بِظُلْمٍ (الانعام: 82) وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کسی ناحق کی آمیزش نہ کی۔ لوگوں نے جواب دیا: وہ لوگ جنہوں نے کہا: ہمارا رب اللہ ہے پھر ادھر ادھر توجہ نہ کی اور وَ لَمْ یَلْبِسُوْآ اِیْمَانَھُمْ بِظُلْمٍ کا مطلب ہے کہ اپنے ایمان میں کسی خطا کی آمیزش نہ کی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے: تم نے اس کو درست معنی پر محمول نہیں کیا ہے۔ ثُمَّ اسْتَقَامُوا کا مطلب ہے پھر اللہ کے سوا کسی دوسرے الہ کی طرف توجہ نہ کی اور لَمْ یَلْبِسُوْآ اِیْمَانَھُمْ بِظُلْمٍ کا مطلب یہ ہے کہ کسی قسم کے شرک میں مبتلا نہ ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3689]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں