المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
279. أسباب نزول هاروت وماروت على وجه الأرض
ہاروت اور ماروت کے زمین پر نازل ہونے کے اسباب
حدیث نمبر: 3696
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حَدَّثَنَا محمد بن عبد السلام، أخبرنا إسحاق، أخبرنا حَكَّام بن سَلْم الرازي - وكان ثقةً - حَدَّثَنَا أبو جعفر الرازي، عن الرَّبيع بن أنس، عن قيس بن عُبَاد، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿وَمَا أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ﴾ الآية [البقرة: 102] ، قال: إِنَّ الناس بعد آدمَ وَقَعُوا فِي الشِّرك، اتَّخَذوا هذه الأصنام وعَبَدوا غيرَ الله، قال: فجعلتِ الملائكةُ يَدْعُون عليهم ويقولون: ربَّنا خلقتَ عبادَك فأحسنتَ خَلْقَهم، ورَزَقتهم فأحسنتَ رِزْقَهم، فَعَصَوْكَ وعَبَدوا غيرَك، اللهمَ اللهمَّ، يَدعُون عليهم، فقال لهم الربُّ ﷿: إنهم في غَيبٍ، فجعلوا لا يَعذِرُونهم، فقال: اختاروا منكم اثنين أُهبِطُهما إلى الأرض فآمُرُهما وأنهاهُما، فاختاروا هاروتَ وماروتَ، قال: وذكر الحديث بطوله فيهما، وقال فيه: فلما شَرِبا الخمرَ وانتَشَيا وَقَعا بالمرأة وقَتَلا النفسَ، فكثُرَ اللَّغَطُ فيما بينهما وبين الملائكة، فنَظَروا إليهما وما يعملان، ففي ذلك أَنزَل الله ﷿ بعد ذلك: ﴿وَالْمَلَائِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الْأَرْضِ﴾ الآية [الشورى: 5] ، قال: فجعل بعدَ ذلك الملائكةُ يَعذِرون أهلَ الأرض ويَدْعُون لهم (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3655 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3655 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد: وَ مَآ اُنْزِلَ عَلَی الْمَلَکَیْنِ بِبَابِلَ ھَارُوْتَ وَ مَارُوْتَ (البقرۃ: 102) کے متعلق فرمایا، سیدنا آدم علیہ السلام کے بعد لوگ شرک میں مبتلا ہو گئے۔ انہوں نے ان بتوں کو معبود مان لیا اور غیر خدا کی عبادت کرنے لگے۔ فرشتوں نے ان کے لئے بددعائیں کرنا شروع کر دیں اور یوں کہنے لگے: اے ہمارے رب! تو نے اپنے بندوں کو پیدا فرمایا اور ان کی اچھی تخلیق فرمائی، تو نے ان کو اچھا رزق عطا فرمایا، لیکن انہوں نے تیری نافرمانی کی ہے اور تیرے غیر کی عبادت کی ہے۔ اے اللہ، اے اللہ! یوں وہ انسانوں کے خلاف دعا مانگا کرتے تھے۔ تو ان کو اللہ رب العزت نے فرمایا: وہ لوگ غیب میں ہیں لیکن فرشتے ان کی معذرت قبول کرنے کو تیار نہ تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا: تم دو فرشتوں کو منتخب کر لو، میں ان کو زمین پر اتارتا ہوں وہ لوگوں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کریں۔ فرشتوں نے ہاروت اور ماروت کا انتخاب کر لیا پھر اس کے بعد ان کا تفصیلی واقعہ بیان فرمایا اور اس کے بعد فرمایا: جب انہوں نے شراب پی لی اور ان کو نشہ ہو گیا تو وہ زنا کے مرتکب ہو گئے اور قتل بھی کر دیا پھر جب ان میں اور ملائکہ میں شور بڑھ گیا تو ملائکہ نے ان کی طرف اور ان کے اعمال کی طرف دیکھا۔ اس سلسلہ میں یہ آیت نازل ہوئی: وَ الْمَلٰٓئِکَۃُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّھِمْ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ (الشوریٰ: 5) ” اور فرشتے اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بولتے اور زمین والوں کے لیے معافی مانگتے ہیں۔“ آیت کے آخر تک۔ پھر اس کے بعد فرشتوں نے زمین والوں کا عذر تسلیم کیا اور ان کے لئے دعا مانگنے لگے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3696]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3696 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن في المتابعات والشواهد من أجل أبي جعفر الرازي - وهو عيسى بن أبي عيسى - وإن كان في حفظه سوء وله مناكير فإنّ هذه القصة قد رويت عن ابن عبَّاس من غير طريقه بأسانيد فيها ضعف، وهذه القصة قد ثبت أنَّ كعب الأحبار قد حدَّث بها بعضَ أصحاب النَّبِيِّ ﷺ، فقد روى عبد الرزاق في "تفسيره" 1/ 53 وابن أبي الدنيا في "العقوبات" (224) بإسناد صحيح إلى عبد الله بن عمر أنَّ كعبًا حدثه بذلك، فدار الحديث ورجع - كما قال الحافظ ابن كثير في "تفسيره" 1/ 199 - إلى نقل كعب الأحبار عن كتب بني إسرائيل، والله أعلم.
⚖️ درجۂ حدیث: "ابو جعفر رازی" (عیسیٰ بن ابی عیسیٰ) کی وجہ سے یہ سند متابعات و شواہد میں "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اگرچہ ان کے حافظے میں خرابی اور مناکیر ہیں، لیکن یہ قصہ ابن عباس سے دوسرے طرق سے بھی مروی ہے (جن میں ضعف ہے)۔ یہ قصہ ثابت ہے کہ کعب الاحبار نے صحابہ سے بیان کیا تھا (عبد الرزاق 1/ 53، ابن ابی الدنیا 224 میں ابن عمر سے صحیح سند کے ساتھ ہے کہ کعب نے انہیں یہ بتایا)۔ لہٰذا یہ حدیث گھوم پھر کر کعب الاحبار کی نقل پر ہی آ جاتی ہے جو بنی اسرائیل کی کتابوں سے ہے، جیسا کہ ابن کثیر (1/ 199) نے کہا۔ واللہ اعلم۔
وأما خبر ابن عبَّاس هذا، فقد أخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (6270) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: جہاں تک ابن عباس کی اس خبر کا تعلق ہے، تو اسے بیہقی نے "شعب الایمان" (6270) میں ابو عبد اللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي حاتم في "تفسيره" 1/ 189 - 190 من طريق آدم بن أبي إياس، عن أبي جعفر الرازي، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی حاتم (1/ 189-190) نے آدم بن ابی ایاس کے طریق سے ابو جعفر رازی سے تخریج کیا ہے۔
وأخرجه بمعناه ابن أبي الدنيا في "العقوبات" (221)، وابن أبي حاتم 1/ 191 - 192 من وجهين فيهما لِينٌ عن ابن عبَّاس.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی الدنیا (العقوبات 221) اور ابن ابی حاتم (1/ 191-192) نے دو طریقوں سے ابن عباس سے تخریج کیا ہے، جن میں "نرمی" (لین) ہے۔
وانظر التعليق على حديث ابن عمر في "مسند أحمد" 10/ (6178)، وما سلف برقم (3088) و (3089).
📝 نوٹ / توضیح: مسند احمد (10/ 6178) میں ابن عمر کی حدیث پر تعلیق، اور جو پہلے (3088، 3089) پر گزر چکا، وہ دیکھیں۔