المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
279. أسباب نزول هاروت وماروت على وجه الأرض
ہاروت اور ماروت کے زمین پر نازل ہونے کے اسباب
حدیث نمبر: 3697
أخبرني أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني، حَدَّثَنَا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حَدَّثَنَا إسماعيل بن عمر أبو المنذِر، حَدَّثَنَا كَثير بن زيد، عن المطَّلِب بن عبد الله بن حَنطَب، عن عبد الله بن عمر: أنه كان واقفًا بعَرَفاتٍ، فنَظَرَ إلى الشمس حين تدلَّت مثلَ التُّرس للغروب، فبكى واشتدَّ بكاؤُه، وتلا قولَ الله ﷿: ﴿اللَّهُ الَّذِي أَنزَلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ وَالْمِيزَانَ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيبٌ (1) ﴾ إلى ﴿الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ﴾ [الشورى:17 - 19] فقال له عَبْدَةُ: يا أبا عبد الرحمن، قد وقفتُ معك مِرارًا لم تَصنَعْ هذا! فقال: ذكرتُ رسولَ الله ﷺ وهو واقفٌ بمكاني هذا، فقال:"أيُّها الناسُ، لم يَبْقَ من دُنْياكم هذه فيما مَضَى، إلّا كما بقيَ من يومِكم هذا فيما مَضَى منه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3656 - كثير بن زيد ضعفه النسائي ومشاه غيره
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3656 - كثير بن زيد ضعفه النسائي ومشاه غيره
مطلب بن عبداللہ بن حنطب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ عرفات کے وقوف میں تھے۔ جب سورج غروب ہونے کے قریب ہوا (اس کی شعائیں ختم ہو گئیں اور صرف ٹکیہ باقی رہ گئی) تو انہوں نے سورج کی طرف دیکھا اور رو دئیے اور بہت شدید روئے اور آپ نے درج ذیل آیات ” الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ “ تک تلاوت کیں: اَللّٰہُ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیزَانَ وَ مَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ قَرِیْبٌ (الشوریٰ: 17,1819) ” اللہ ہے جس نے حق کے ساتھ کتاب اتاری اور انصاف کی ترازو اور تم کیا جانو شاید قیامت قریب ہی ہو۔“ ان سے ان کے غلام نے کہا: اے ابوعبدالرحمن رضی اللہ عنہ! میں نے کئی مرتبہ آپ کے ساتھ وقوف عرفات کیا لیکن آپ نے کبھی بھی یہ نہیں کیا۔ انہوں نے جواباً کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد آ گئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی جگہ کھڑے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! تمہاری دنیا گزر چکی ہے اور باقی صرف اتنی ہی رہ گئی ہے کہ آج کا دن گزر جانے کے بعد اب جتنا دن باقی رہتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3697]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3697 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في النسخ الخطية: ﴿لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُونُ قَرِيبًا﴾، وهو هنا خطأ، فهذه الآية من سورة الأحزاب آية رقم 63، وليست من الشورى.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں ﴿لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُونُ قَرِيبًا﴾ ہے، جو یہاں "غلطی" ہے۔ یہ آیت سورہ احزاب (63) کی ہے، شوریٰ کی نہیں۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، فإنَّ المطلب بن عبد الله بن حنطب روايته - في الراجح - عن ابن عمر مرسلة، وقد أدخل بينه وبين ابن عمر في رواية ابن أبي فديك عن كثير ابن زيد عند ابن أبي عاصم في "الزهد" (188) وعنه أبو الشيخ في "أمثال الحديث" (282)، أدخل بينهما رجلًا لم يسمِّه.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، لیکن یہ سند "انقطاع" کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: مطلب بن عبد اللہ بن حنطب کی ابن عمر سے روایت "راجح" طور پر "مرسل" ہے۔ ابن ابی عاصم اور ابو الشیخ کی روایت میں مطلب اور ابن عمر کے درمیان ایک آدمی داخل کیا گیا ہے جس کا نام نہیں لیا۔
وأخرجه أحمد 10/ (6173) عن إسماعيل بن عمر، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (10/ 6173) نے اسماعیل بن عمر سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وقد روى معنى هذا الحديث المرفوع عن ابن عمر جمعٌ من أصحابه، فانظرها في "مسند أحمد" 8/ (4508) و 10 / (5902) و (5911) و (5966) و (6029) و (6066) و (6133)، وبعضها في "الصحيح".
🧩 متابعات و شواہد: اس مرفوع حدیث کا معنی ابن عمر سے ان کے کئی ساتھیوں نے روایت کیا ہے، مسند احمد اور صحیح میں دیکھیں۔